دو سابق وزرائے اعظم کی احتساب عدالت میں طلبی

یوسف گیلانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جن کا تعلق سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے سابق چیئرمین توقیر صادق کی تقرری کے مقدمے میں پاکستان کے دو سابق وزرائے اعظم کو آئندہ سماعت پر عدالت میں طلب کیا ہے۔ اُن پر اس مقدمے میں فرد جُرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ان دو سابق وزرائے اعظم میں یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف شامل ہیں اور ان دونوں کا تعلق سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ اس کے علاوہ دیگر چار افراد پر بھی اس مقدمے میں فرد جُرم عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

عدالت نے سکیورٹی خدشات کی بنا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے دونوں رہنماوں کو عدالت میں پیشی سے استثنیٰ دی ہوئی ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے پیر کو اس مقدمے کی سماعت کی تو اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے قومی احتساب بیورو کے اہلکاروں نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کی تفتیش کافی حد تک مکمل ہو چکی ہے جس کی کاپی عدالت میں بھی پیش کی جا چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف جن کا تعلق سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے کا جو چالان عدالت میں پیش کیا گیا ہے اُس کی بنا پر ملزمان پر فرد جُرم عائد کی جائے جس پر عدالت نے سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف سمیت چھ ملزمان کو چار جون کو عدالت میں طلب کیا ہے۔

دوسری جانب اسی عدالت نے اوگرا میں بدعنوانی کے مقدمے میں اس ادارے کے سابق چیئرمین توقیر صادق سمیت گیارہ افراد پر فرد جُرم عائد کردی ہے۔

اس مقدمے کے دیگر ملزمان میں عقیل کریم ڈھڈی، سابق جوائنٹ سیکریٹری سکندر حیات میکن، یوسف جے، منصور مظہر، عبدالرشید اور جواد جمیل شامل ہیں جب کہ اس مقدمے میں بارہویں ملزم مرزا محمود کا نام ریفرنس سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ملزمان نے صحت جُرم سے انکار کیا ہے۔

اسی بارے میں