’حکومت مذاکرات بھی ہم سے کر رہی ہے اور جنگ بھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عوام کے مفاد میں پرتشدد کارروائیاں نہیں کر رہے ہیں: طالبان ترجمان

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے حکومت کے اس موقف کو غلط قرار دیا ہے جس کے مطابق ان شدت پسند گروہوں سے مذاکرات ہو رہے ہیں جو بات کرنا چاہتے ہیں اور ان سے جنگ جو محض لڑائی کے خواہاں ہیں۔

بی بی سی اردو سروس سے کسی نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت مذاکرات بھی ہم سے کر رہی ہے اور جنگ بھی ہمارے ہی خلاف جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ کارروائیاں محض شمالی وزیرستان میں نہیں بلکہ باجوڑ سے لے کر جنوبی وزیرستان تک میں جاری ہیں۔ ہمارے علاوہ ان کے ساتھ اور کون بات چیت کر رہا ہے؟‘

ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ صرف قوم کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ جو لوگ ان سے بات کرنا چاہتے ہیں یہ انہی کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کہتے رہے ہیں کہ حکومت ان لوگوں سے مذاکرات کرنے کو تیار ہے جو بات چیت کے لیے آمادہ ہوں گے اور ان سے لڑے گی جو جنگ کرنا چاہتے ہیں۔

گذشتہ دنوں ایک بیان میں انھوں نے شمالی وزیرستان میں بھرپور فوجی کارروائی کے فیصلے کی بھی تردید کی تاہم واضح کیا کہ قبائلی علاقوں میں جاری محدود کارروائیاں پہلے سے کیےگئے فیصلے کے تحت ہیں جس میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کا جواب دینے کی بات کی گئی ہے۔

تحریک طالبان کے اندرونی اختلافات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ’تھوڑے بہت اختلافات تو پہلے سے موجود تھے لیکن یہ ہمارے حملوں پر اثر انداز نہیں ہو رہے ہیں۔ یہ اختلافات محض وزیرستان میں ہیں لیکن اتنے نہیں جتنے کہ میڈیا نے انہیں ہوا دی ہے۔‘

مرکزی ترجمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں تعطل کی وجہ وہ نہیں بلکہ حکومت ہے۔ ’طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم اور یوسف شاہ سے حکومت کوئی رابطہ نہیں کر رہی ہے۔ ہمیں کہا گیا کہ وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ سے بات کریں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں تو کوئی خبر نہیں مذاکرات میں ان کے کردار کی۔‘

جنگ بندی کے خاتمے اور مذاکرت میں بظاہر تعطل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ جان بوجھ کر ’عوام کے مفاد میں پرتشدد کارروائیاں نہیں کر رہے ہیں۔‘

حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے لیے رابطوں یا کسی پیش رفت کی ایک طویل عرصے سے کوئی اطلاع نہیں ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ بات چیت کس وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق فریقین میں نہ تو کوئی تازہ ملاقاتیں ہوئی ہیں اور نہ رابطے۔

اسی بارے میں