’تحریک اپنے مقاصد سے ہٹ گئی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہم نے بڑے سوچ بچار کے بعد الگ ہونے کا فیصلہ کیا: اعظم طارق

کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے سجنا گروپ کے ترجمان اعظم طارق کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان اپنے بانی رہنما بیت اللہ محسود کے مقرر کردہ اصل اہداف سے ہٹ گئی تھی جس کی وجہ سے وہ علیحدگی پر مجبور ہوئے ہیں۔

بی بی سی اردو سے کسی نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ ان کی شوریٰ مناسب غور و خوض کے بعد کرے گی۔

’ہم نے بڑے سوچ بچار کے بعد الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس کی بڑی وجوہات ہیں۔ تحریک طالبان اپنے اس مقصد سے ہٹ گئی تھی۔ تحریک میں چند ایسے عناصر آ گئے جنہوں نے جہادی مقاصد چھوڑ کر ایسی کارروائیاں شروع کیں جنہوں نے اس کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ تحریک کے ہی سائے تلے ڈاکہ زنی، بھتہ خوری، علماء کی شہادت، مدارس سے بھاری رقوم کا تقاضہ، پیسے لے کر عوامی مقامات پر دھماکے کرنا اور مختلف ناموں سے ذمہ داری قبول کرنا اور خاص کر امارت اسلامی افغانستان کے خلاف پروپگنڈا کرنا، ایسی گھناونی سازش تھی جسے ہم بار بار کی کوششوں کے باوجود روک نہیں سکے۔‘

اعظم طارق کو ستمبر سنہ 2009 میں مولوی عمر کی گرفتاری کے بعد ٹی ٹی پی کا مرکزی ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ بعد میں انھیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس نئے گروپ میں انھیں ترجمان کا عہدہ دیا گیا ہے جبکہ مولانا ولی الرحمان کے سابق نائب خالد محسود عرف سجنا امیر مقرر کیے گیے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ ان مسائل کے حل کے لیے اندرونی طور پر کیا کوششیں کی گئیں، ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ شوریٰ میں یہ معاملہ کئی مرتبہ اٹھایا گیا لیکن بہتری کی کوئی راہ نہیں نکلی۔ انھوں نے اس بات کی تردید کی کہ اختلافات کی وجہ کوئی عہدہ یا کرسی تھی ’بلکہ اختلاف نظریات کا تھا۔‘

ایک دوسرے سوال کے جواب میں کہ علحیدہ ہونے والوں میں محض محسود قبیلے کے جنگجو شامل ہیں یا دیگر بھی ہیں، اعظم طارق کا کہنا تھا کہ انھوں نے الگ ہونے کا فیصلہ محسود قبیلے کی بنیاد پر ہی کیا ہے لیکن ’ہر کسی کو ہمارے ساتھ آنے کی دعوت دی ہے۔‘ شہریار محسود کے ساتھ لڑائی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تو چھوٹا سا مسئلہ تھا حل کر لیا گیا ہے اور باقی سب ناراض ساتھیوں کی طرح انھیں بھی شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے تحریک کی پالیسی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ ان کی شوری بعد میں کرے گی اور ابھی اس کا فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

اعظم طارق سے جب پوچھا گیا کہ اس فیصلے سے تحریک کمزور نہیں ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ آنے والے دن ہی بتائیں گے لیکن وہ اپنے جہادی نظریے کو ماضی کی طرح مستقبل میں بھی لے کر چلیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد 2007 میں تیرہ شدت پسند گروہوں نے بیت اللہ محسود کی قیادت میں رکھی تھی

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ تحریک میں اختلافات کی باضابطہ تصدیق ہوسکی ہے۔

یاد رہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد دسمبر 2007 میں تیرہ شدت پسند گروہوں نے بیت اللہ محسود کی قیادت میں رکھی تھی۔ اگست 2009 میں بیت اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد پہلی مرتبہ نئی قیادت پر اختلافات کی افواہیں سامنے آئی تھیں۔ اس دوران شوری کے اجلاس میں بھی لڑائی کی افواہیں بھی گردش میں رہیں اور پھر نومبر 2013 میں حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد دوبارہ قیادت پر شدید اختلافات کی خبریں آئی تھیں۔

اسی بارے میں