جیو کی بندش، پیمرا کی کمیٹی قائم

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پیمرا کے حکومتی اور اعزازی ارکان میں شدید اختلاف ہے

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے اعزازی ارکان نے نجی ٹی وی چینل جیو کی بندش سے متعلق فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

یہ کمیٹی بیس مئی کو ہونے والے اجلاس میں نجی ٹی وی چینل جیو سے متعلق ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کروائے گی۔

اس کیمٹی میں اسرار عباسی، فریحہ افتخار اور شمع پروین مگسی شامل ہیں۔

بیس مئی کو کمیٹی کے پانچ اعزازی ارکان نے ایک اجلاس میں پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ پر جیو کی جانب سے الزام عائد کرنے پر جیو نیوز، جیو انٹرٹینمنٹ اور جیو تیز کے لائسنس معطل کرنے اور اُن کے دفاتر بند کرنے کا متفقہ فیصلہ سُنایا تھا۔

بدھ کے روز اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے ارکان سے بات کرتے ہوئے اسرار عباسی کا کہنا تھا کہ اس اجلاس سے متعلق سرکاری ممبران کو بھی مدعو کیا گیا تھا تاہم وہ پیمرا کی عمارت میں تو ضرور آئے لیکن وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایک سرکاری رکن سے اُن کی ملاقات ہوئی تھی اور اُنھوں نے کہا تھا کہ اس معاملے کو ہائی کورٹ میں پیمرا کے سرکاری ارکان کی طرف سے دائر ہونے والی درخواست پر فیصلے کے بعد رکھا جائے۔ اعزازی ارکان حکومتی اراکین کے اس موقف سے متفق نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ پیمرا کے سرکاری ارکان کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت عالیہ کو اُن کی طرف سے ستائیس مئی کو بلایا جانے والے اجلاس کو منسوخ کرنے سے پہلے متعلقہ حکام کو نوٹس دینا چاہیے تھا۔

اسرار عباسی کا کہنا تھا کہ پیمرا کے ارکان پر وزارت اطلاعات کا بڑا دباؤ ہے اس لیے بیس مئی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

اعزازی ارکان نے پیمرا کا ائندہ اجلاس سترہ جون کو طلب کیا ہے جس میں کمیٹی اپنی کارکردگی پیش کرے گی۔ اُدھر پیمرا کے دفتر کے باہر سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور وہ جیو کی بندش کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اسی بارے میں