’حکومت اتنا ہی کرے جتنا وہ خود برداشت کرسکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption میرا تو واحد ریکارڈ ہے کہ میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا:گیلانی

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ حکومت اتنا ہی کرے جتنا وہ خود برداشت کرسکتی ہے۔

یہ بات انہوں نے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان سکینڈل میں انسدادِ بدعنوانی کی عدالت کی جانب سے اپنے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر کی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وفاقی وزیر مخدوم امین فہیم اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے بعض افسران پر بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا تھا۔

’پاکستان میں کوئی مقدمہ میرے بغیر مکمل نہیں ہوتا‘: سنیئے انٹرویو

یوسف گیلانی، امین فہیم کے وارنٹ گرفتاری جاری

اور جمعرات کو کراچی کی انسدادِ بدعنوانی کی ایک عدالت نے سابق وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

اس سوال پر کہ پولو گراؤنڈ کیس میں تو آصف زرادری کو چھوڑ دیا جاتا ہے لیکن ان کے ساتھ کوئی رعایت دکھائی نہیں دیتی تو کیا اوپری سطح پر کوئی سیاسی ڈیل ہوئی ہے ؟

یوسف رضا گیلانی کا جواب تھا ’مجھے تو کسی چیز کا کچھ پتہ نہیں لیکن میں نے موجودہ حکومت کو کہا ہے کہ اتنا کریں جتنا کل کو خود برداشت کر سکیں۔ کیونکہ ان میں برداشت اتنی زیادہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے حج سکینڈل، اوگرا کے چیئرمین کی تقرری سمیت دیگر مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شاید ان مقدمات میں وہ واحد فریق ہیں جو نوٹسز وصول بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور بھی اگر کچھ مقدمات ہیں تو سب میں ان کا نام شامل کر دے تاکہ وہ بار بار کی زحمت سے بچ سکیں۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اِس وقت اُن پر اور ان کے بیٹوں پر بہت سے مقدمات قائم ہیں ایک بیٹا اغوا ہے اور ایسے میں ان کے خلاف مسلسل مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pakistans Commerce Ministry
Image caption ایف آئی اے نے یوسف رضا گیلانی، مخدوم امین فہیم اور ٹریڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے بعض افسران پر بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا تھا

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے بدلے کی سیاست کی روایت توڑنے کی پوری کوشش کی تھی۔ ان کے بقول ’میرا تو واحد ریکارڈ ہے کہ میرے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھی مقدمہ ان کے نام شامل کیے بغیر مکمل ہی نہیں ہوتا۔ ’این آر او عمل درآمد کیس میں آٹھ ہزار سے زائد لوگ نامزد تھے حالانکہ میں اِس (این آر او) سے مستفید ہونے والوں میں سے بھی نہیں تھا پھر بھی میرا نام اس میں شامل کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا ’ہم نے پہلے بھی ایسے حالات کا سامنا کیا ہے۔ ہم نہ جیلوں سے ڈرتے ہیں اور نہ ہتھکڑیوں کا ڈر ہے۔‘

اوگرا کے چیئرمین کے تقرر کے حوالے سے قائم مقدمے کا ذکر کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ اگر تقرری جرم ہے تو تمام تقرریاں اس کے زمرے میں آتی ہیں ’آخر مشرف کا تقرر بھی تو کسی نے کیا ہے۔ اِس طرح تو اصل مجرم بچ جائیں گے صرف تقرر کرنے والا پھنسے گا۔‘

اسی بارے میں