’80 افغان مہاجرین رجسٹریشن کارڈ منسوخ کرائے بغیر واپس چلے گئے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایک غیر ملکی پاکستانی فوج میں کمانڈو کی حثیت سے بھی کام کر چکا ہے

نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کا کہنا ہے کہ جن 80 افغان پناہ گزینوں کا ذکر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں ہوا وہ اپنے پناہ گزین کارڈ منسوخ کرائے بغیر افغانستان چلے گئے اور وہاں کے مختلف اداروں میں ملازمت کر رہے ہیں۔

نادرا کے ترجمان نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ان پناہ گزینوں کو اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین اور نادرا نے مشترکہ طور پر رجسٹریشن کارڈ جاری کیے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں نادرا کی جانب سے 58 غیر ملکی باشندوں کو شناختی کارڈ جاری کرنے کی بات نہیں ہوئی۔

سینیٹ کمیٹی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمٰن گروپ) سے تعلق رکھنے والے سینیٹر طلحہ محمود کی سربراہی میں ہوا تھا۔

اس اجلاس میں بتایا گیا کہ اس معاملے کی چھان بین جاری ہے۔

کمیٹی کے رکن طاہر مشہدی نے کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت نے اُن کی جماعت کے قائد الطاف حسین کو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرنے کی یقین دہانی کروادی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں دونوں محکموں کے افسران پر مشتمل ایک ٹیم جلد ہی لندن میں الطاف حسین کے گھر کا دورہ کرے گی اور ضروری کارروائی کے بعد شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں