پاکستان کا باجوڑ میں حملے پر افغانستان سے احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 16 عسکریت پسند مارے گئے: حکام

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں افغان ناظم الامور کو طلب کر کے قبائلی علاقے باجوڑ میں سرحدی چوکی پر شدت پسندوں کے حملے پر احتجاج کیا ہے۔

باجوڑ ایجنسی میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق سنیچر کی صبح شدت پسندوں کے حملے میں ایک سکیورٹی اہل کار ہلاک ہو گیا جب کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 16 شدت مارے گئے۔

حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے پر اسلام آباد میں افغان ناظم الامور کو دفترِ خارجہ طلب کیا گیا جب کہ افغان دارالحکومت کابل میں پاکستانی سفیر نے افغان دفترِ خارجہ سے بھی اس واقعے پر احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ 150 سے 200 شدت پسندوں کے حملے کو پسپا کرنے کے لیے آرٹلری فائر کیے گئے اور فضائی کارروائی کی گئی۔

بیان کے مطابق’اس الزام میں کوئی سچائی نہیں ہے کہ افغانستان میں افغان شہریوں پر گولہ باری کی گئی۔ فضائی کارروائی میں صرف حملہ آوروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘

اس سے پہلے پشاور میں ایک اعلیٰ سکیورٹی اہل کار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح سرحد پار افغانستان کے علاقے سے درجنوں شدت پسندوں نے باجوڑ ایجنسی کے علاقے ناؤ ٹاپ میں قائم پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چوکیوں پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کے دوران توپ بردار ہیلی کاپٹروں کی مدد لی گئی۔

سکیورٹی اہلکار کے مطابق جوابی کارروائی میں 16 شدت پسند مارے گئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سکیورٹی اہل کار ہلاک اور دو اہل کار زخمی ہوئے۔ زخمی اہل کاروں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

کسی تنظیم کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

اس سے پہلے سرحد پار سے ہونے والے حملوں کی ذمہ داری ملاکنڈ، سوات اور مہمند ایجنسی کے طالبان قبول کرتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سرحد پار افغانستان کے علاقوں سے اس پہلے بھی باجوڑ و مہمند ایجنسیوں، چترال اور دیر کے اضلاع پر طالبان کی جانب سے حملے ہوتے رہے ہیں جس میں درجنوں سکیورٹی اہل کار اور عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

دو سال پہلے جب ان حملوں میں اضافہ ہوا تو پاکستان نے پہلی مرتبہ چترال اور افغان سرحد سے متتصل دیر کے اضلاع میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا تھا۔

ان حملوں پر پاکستان فوج اور دفتر خارجہ کی طرف سے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

پاکستان نے افغانستان میں تعینات ایساف اور افغان نیشنل آرمی کی فورسز سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کو روکنے کےلیے اقدامات کیے جائیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ افغانستان کی جانب سے بھی پاکستانی فوج پر افغان علاقوں پر گولہ باری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

دو دن پہلے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کی جانب سے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان فوج کی جانب سے افغان علاقوں پر گولہ باری بند کی جائے۔

اسی بارے میں