فرزانہ قتل: والد کی حراست میں توسیع

فرزانہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس نے فرزانہ کے قتل کے سلسلے میں ان کے والد عظیم کو گرفتار کر لیا تھا

پاکستان کی ایک عدالت نے لاہور میں پسند کی شادی کرنے پر ایک خاتون کے قتل کے سلسلے میں گرفتار ان کے والد کی حراست میں توسیع کر دی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

جمعہ کو پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے خاتون کے قتل کا از خود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب پولیس کے سربراہ سے رپورٹ طلب کی تھی۔

فرزانہ کا تعلق صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ سے تھا اور انھوں نے کچھ عرصہ پہلے گھر سے بھاگ کر محمد اقبال سے پسند کی شادی کی تھی۔

وہ اپنے خاوند اقبال کے ساتھ منگل کی صبح لاہور ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے لیے آرہی تھیں کہ ججز گیٹ کے پاس پہلے سے ہی ان کے بھائی والد اور ان کا ماموں زاد جو کہ فرزانہ کا سابقہ منگیتر بھی تھا گھات لگائے بیٹھے تھے۔

جونہی فرزانہ احاطۂ عدالت میں داخل ہونے لگیں یہ لوگ انھیں گھسیٹ کر دوسری طرف لے گئے اور چند ہی لمحوں میں ان کے سر پر اینٹیں مار مار کر انھیں قتل کر دیا۔

پولیس نے فرزانہ کے والد عظیم کو گرفتار کر لیا تھا جب کہ ان کے باقی رشتہ داروں کو جمعرات کی شام گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس واقعے کے بارے میں میڈیا میں رپورٹس میں بھی کہا گیا تھا کہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے بھی اس واقعہ کو نہیں روکا بلکہ وہ ایک خاموش تماشائی بن کر وہاں کھڑے رہے۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے پنجاب پولیس کے سربراہ اور لاہور پولیس کے سربراہ کو 24 گھنٹوں میں ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔

ڈی آئی جی انوسٹیگیشن لاہور ذوالفقار حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے میں چار افراد کو ان کے گاؤں سید والہ سے گرفتار کیا گیا ہے جن میں ایک مقتولہ کا انکل، اس کے دو کزن جب کہ ایک ڈرائیور ہے جو ملزمان کو لے کر لاہور ہائی کورٹ آیا تھا۔

ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ فرزانہ قتل مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

جب ان سے گرفتار ہونے والے افراد کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کے بارے میں پوچھا تو ڈی آئی جی انوسٹیگیشن کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران معلوم ہوگا کہ اُن کا اس واقعہ میں کتنا کردار ہے۔

اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے بھی اس قتل کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کی تھی۔

ایس پی سول لائنز عمر چیمہ کے مطابق آس پاس موجود پولیس اہل کار فرازانہ کو چھڑوانے کے لیے دوڑے بھی لیکن چار حملہ آوروں کے علاوہ بھی کچھ لوگ ان کے ساتھ تھے جن کے پاس اسلحہ بھی تھا، انھوں نے پولیس سے مزاحمت کی اور جتنی دیر میں پولیس اہل کار نے ان سے پستول چھینی فرزانہ مر چکی تھیں۔

اسی بارے میں