’ماہی گیروں کی قسمت میں صرف وعدے‘

Image caption ایک ماہی گیر نے بتایا کہ ان کے علاقےمیں پینے کا صاف پانی، صحت اور تعلیم کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر کیٹی بندر واقع ہے جہاں ہزاروں ماہی گیر آج بھی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہر سال سینکڑوں ماہی گیر اپنے علاقے سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں لیکن حکومت کی جانب سے وعدوں کے باوجود تاحال ان کے بہتر مستقبل کے لیے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

کراچی سے کیٹی بندر پہنچنے کے بعد وہاں سے گاؤں صدیق گبلو تک کا سفر ایک کشتی کے ذریعے تقربیاً آدھے گھنٹے میں طے کیا۔ جب گاؤں پہنچے تو کچھ ماہی گیروں نے ہمارا استقبال کیا جن کے چہروں پر غربت اور لاچارگی دور سے دکھائی دے رہی تھی۔ کسی کے پاؤں میں جوتے نہیں تھے اور نہ ہی کسی نے کوئی اچھے کپڑے زیب تن کیے تھے۔

ایک ماہی گیر نے بتایا کہ ان کے علاقےمیں پینے کا صاف پانی، صحت اور تعلیم کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے جس کے باعث علاقے کے بیس ہزار سے زیادہ بچے اور بچیاں تعلیم جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔

آس پاس کے چار گاؤں میں ایک بھی پرائمری سکول موجود نہیں ہے جبکہ کیٹی بندر میں لڑکوں کے لیے ایک پرائمری، ایک مڈل اور ایک ہائی سکول موجود ہے جو ان سے بہت دور ہے۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ آبادی کے باوجود کیٹی بندر میں بچیوں کے لیے صرف ایک پرائمری سکول ہے۔

دور درزار سے پڑھنے کے لیے ان بچوں اور بچیوں کا آنا جانا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ بعض والدین نے بتایا کہ انھیں اپنے باب دادا سے ماہی گیری وراثت میں ملی ہے تو ان کے بچے بھی ان کے ساتھ ماہی گیری کرتے ہوئے ایک دن بڑے ہوجائیں گے۔

ایک خاتون نے بتایا کہ ان کی خواہش ہے کہ ملک کی دیگر بچیوں کی طرح ان کی سات سالہ بیٹی آسیہ بھی تعلیم حاصل کر کے لیڈی ڈاکٹر بن جائے تاکہ علاقے میں بیمار خواتین کی خدمت کرسکے لیکن گاؤں میں کوئی سکول یا ماسٹر نہیں ہے۔

تاہم سات سالہ آسیہ اپنی سہلیوں کے ہمراہ ان دنوں سمندر کے کم پانی سے دن میں دو تین کیکڑے ضرور پکڑتی ہے اور اس سے ملنے والی رقم والدہ کو دیتی ہے۔ کیونکہ مئی، جون اور جولائی میں مچھلیاں انڈے دیتے ہیں،اس لیے اس عرصے میں مچھلی کا شکار بند ہے۔

Image caption مقامی بزرگوں کے مطابق دریائے سندھ میں ہرسال میٹھا پانی کم ہو رہا ہے جس کے باعث گذشتہ پندرہ سال کے دوران تقریباً دو سے ڈھائی سو میٹر تک زمین سمندر میں ڈوب چکی ہے

گاؤں صدیق گبلو تک رسائی صرف کشتی کے ذریعے ممکن ہے۔ لیکن کبھی کبھار سمندر کی لہریں تیز ہوجاتی ہیں اور حادثات کا سبب بن جاتی ہیں۔ لیکن ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ جب کبھی وہ کسی بیمار سے ساتھ علاج کے لیے کراچی جاتی ہے تو انھیں اس وقت کشتی میں نہیں بلکہ گاڑی میں سفر کرتے ہوئے زیادہ ڈر لگتا ہے۔

گاؤں صدیق گبلو اور کیٹی بندر کے درمیان روزانہ کشتی چلنے کی کوئی سہولت موجود نہیں جس کے باعث یہاں زیادہ تر لوگ ڈیزل خریدنے اور کشتی چلانے کے لیے چندہ کر کے اپنی منزل تک آتے جاتے ہیں۔ جن کے پاس پیسے نہ ہوں وہ اس سہولت سے مفت میں مستفید ہو جاتے ہے۔

ان ماہی گیروں کے مطابق جب بھی ملک میں انتخابات ہوتے ہیں تو مختلف امیدوار یہاں آکر بڑے بڑے وعدے کرتے ہیں کہ سکول اور ہسپتال بنا کردیں گے، مفت جال تقسیم کریں گے تاکہ ماہی گیروں کو مچھلیاں پکڑنے میں آسانی ہو۔

لیکن انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ منتخب نمائندے نہ صرف اپنے وعدے بھول جاتے ہیں بلکہ آئندہ انتخابات تک اس علاقے کا رخ کرنا بھی گوارہ نہیں کرتے ہیں۔

اس علاقے میں شادی بیاہ کا رواج بھی عجیب ہے۔ اکثر شادیاں والدین کی مرضی سے ہوتی ہیں لیکن اگر کوئی لڑکی بغاوت کر کے کسی دوسرے گاؤں میں اپنی پسند کی شادی کرے توانھیں غیریت کے نام پر قتل نہیں بلکہ سزاء کے طور پر ہمیشہ کے لیے گاؤں بدر کر دیا جاتاہے۔

اس کے مقابلے میں اگر کوئی لڑکا اس قسم کی حرکت کرے تو وہ گاؤں بدر ہونےکی بجائے والدین کی جانب سے فخریہ کہا جاتا ہے کہ دوسرے گاؤں کی لڑکی نے ہمارے لڑکے کو پسند کیا ہے۔

تحفظ ماحولیات عالمی تنظیم ڈبلیو ڈبلیوی ایف کے کوارڈینیٹر طاہر عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ سمندری طوفان سے بچنے کے لیے یہاں بعض ماہی گیروں نے اپنی مدد آپ کے تحت تیمر یا منگروز کے جنگلات لگائے ہیں لیکن مسلسل سمندری کٹاؤ اور پینے کا صاف پانی نہ ہونے کے باعث ہرسال سینکڑوں ماہی گیر کراچی اور دیگر بڑے شہروں کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں کو صاف پانی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کیونکہ علاقے کی ترقی کے لیے غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے ہونے والے اقدامات ناکافی ہیں۔

مقامی بزرگوں کے مطابق دریائے سندھ میں ہرسال میٹھا پانی کم ہو رہا ہے جس کے باعث گذشتہ پندرہ سال کے دوران تقریباً دو سے ڈھائی سو میٹر تک زمین سمندر میں ڈوب چکی ہے۔

اسی بارے میں