سوات میں خاندان کو زندہ جلا دیا گیا

Image caption دروازوں کو تالے لگادئیے جس کے بعد گھر کو آگ لگادی گئی

پاکستان کی وادی سوات کی پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع بونیر میں چار افراد کو زندہ جلانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی رات گوکند کے قصبے پلواری میں پیش آیا اور حملہ آوروں نے ایک گھر پر حملہ کر کے وہاں موجود اہلِ خانہ کو کمرے میں بند کرنے کے بعدگھر کو آگ لگا دی۔

تھانہ ڈگر کے محرر عبدالرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

تھانہ ڈگر کے ایس ایچ او جاوید افسر کا کہنا ہے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے مخیبر نامی شخص کے گھر پر حملہ کیا اور گھر میں موجود تین خواتین سمیت چار افراد کو کمرے میں بند کر کے دروازوں کو تالے لگا دیے جس کے بعد گھر کو آگ لگادی گئی جس سے چاروں افراد زندہ جھلس کر ہلاک ہوگئے ۔

ان کا کہنا تھا کہ واقعہ دور افتادہ ایک ایسے پہاڑی علاقے میں پیش آیا ہے جہاں پر موجود گھر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر بنے ہوئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ زندہ جل جانے والے افراد کے مدد کے لیے گاؤں والے موقع پر نہیں پہنچ سکے ۔ ہلاک ہونے والے چاروں افراد کی لاشیں ڈگر ہسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔

ایس ایچ او کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم تحقیقات کا عمل جاری ہے۔

پولیس نے واقعے میں ملوث ایک شخص کو گرفتارکر لیا ہے ، پولیس کے مطابق واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے۔

اسی بارے میں