سابق پاکستانی وزیراعظم سمیت 12 پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption راجہ پرویز اشرف نے بطور وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں کی منظوری دی تھی

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں مبینہ طور پر ہونے والی بدعنوانی کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین سمیت بارہ افراد پر فرم جُرم عائد کردی ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے منگل کے روز ملزمان کو فرد جُرم پڑھ کر سنائی جبکہ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کمرہ عدالت میں موجود نہیں تھے اور ان کی نمائندگی ان کے وکیل امجد اقبال قریشی کر رہے تھے۔

کمرہ عدالت میں موجود ملزمان نے صحت جُرم سے انکار کیا۔

عدالت نے یہ فرد جُرم پیراں غائب اور سہو وال کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں لگائی ہے۔

عدالت نے سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین اور سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اسماعیل قریشی کی طرف سے دائر کی جانے والی بریت کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔

عدالت نے اگلی سماعت پر اس مقدمے میں شہادتیں بھی طلب کر لی ہیں۔

واضح رہے کہ شوکت ترین موجوہ حکومت کی طرف سے اقتصادی پالیسیاں بنانے والی ٹیم کا حصہ ہیں جبکہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں وزیر خزانہ کے عہدے پر فائز رہے تاہم اُس وقت کی حکومت کے ساتھ اختلافات کے وجہ سے وہ اس عہدے سے الگ ہوگئے تھے۔

عدالت نے راجہ پرویز اشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست بھی مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ متعقلہ عدالت ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے کسی بھی شخص کا نام نکالنے کی مجاز نہیں ہے۔

سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے اور اُنھوں نے بطور وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبوں کی منظوری دی تھی۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے ان میں سے کچھ منصوبوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کرائے کے بجلی گھروں کے مالکان کو وہ تمام رقم واپس کرنے کا حکم دیا تھا جو اُنہوں نے حکومت پاکستان سے ایڈوانس میں حاصل کی تھی۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

اسی بارے میں