خسارے کا بجٹ، تنخواہوں میں معمولی اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ pakgov
Image caption بجٹ میں دفاعی اخراجات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے

پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال کے لیے 39 کھرب 45 ارب روپے کے بجٹ کا اعلان کیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مجموعی حجم سے دس فیصد زائد ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر میں وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ محموعی اخراجات کا تخمینہ 39 کھرب 37 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال میں بجٹ کا خسارہ کل ملکی پیداوار کے چار اعشاریہ نو فیصد کے برابر ہو گا یعنی کہ یہ بجٹ 17 کھرب 10 ارب روپے خسارے کا بجٹ ہے۔

اسحاق ڈار نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے سات سو ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ صوبوں کو سترہ سو بیس ارب روپے دیے جائیں گے اور وفاقی حکومت کے پاس صوبوں کو دینے کے بعد بائیس سو پچیس ارب روپے ہوں گے۔

بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لیے محصولات کا ہدف اٹھائیس سو دس ارب مقرر کیا گیا ہے جبکہ وفاقی ترقیاتی اخراجات کی مد میں پانچ سو پچیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ وزیر خزانہ نے کم سے کم ماہانہ تنخواہ دس ہزار سے بڑھا کر گیارہ ہزار روپے کرنے کا بھی اعلان کیا۔

حکومت نے کم سے کم پنشن کی حد بھی پانچ ہزار روپے سے بڑھا کر چھ ہزار روپے کر دی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں نیشنل انکم سپورٹ پروگرام کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے اور 41 لاکھ خاندانوں کے بجائے اب 53 لاکھ خاندانوں کو انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ماہانہ وظیفہ دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ماہانہ بارہ سو روپے کے وظیفے کو بڑھا کر پندرہ سو روپے کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے

اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے میں ترقی کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کسانوں کی فصلوں اور مویشوں کی انشورنس کے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ چھوٹے کسانوں کو ایک لاکھ روپے کا قرضہ دیا جائے گا جس کے لیے حکومت ضمانت فراہم کرے گا۔ بجٹ میں زرعی ٹریکٹروں پر سیلز ٹیکس کی شرح سولہ فیصد سے کم کر کے دس فیصد کر دی گئی ہے۔

ترقیاتی منصوبوں میں اہم ترجیحات آبی ذخائر کے شعبے، توانائی اور انفراسٹیکچر کی تعمیر کو دی گئی ہے۔

آئندہ مالی آبی ذخائر کے منصوبوں میں دیامیر بھاشا ڈیم ، منگلا ڈیم اور تربیلا ڈیم کے توسیعی منصوبے، گومل زم ڈیم کے علاوہ بلوچستان میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے فنڈ مختص کیے گئے ہیں۔

آئندہ مالی سال میں توانائی کے شعبے کے منصوبوں کے لیے دو سو پانچ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر، چشمہ تھری اور فور کے توسیعی منصوبے بھی شامل ہیں۔

مواصلات کے شعبے میں بھی کئی اہم منصوبوں کی تعمیر کا اعلان کیا گیا ہے۔ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کا منصوبہ ، کراچی اور لاہور کے درمیان موٹر وے کی تعمیر کے لیے بھی فنڈ مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ کراچی سے لاہور تک موٹر وے کی تعمیر اُن کی حکومت کی آئینی مدت میں ہی مکمل کر لی جائے گی۔ مواصلات اور ریلویز کے لیے مجموعی طور پر ایک سو تیرہ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت ٹیکسوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے کہا حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں ٹیکسوں کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے اقدامات تجویز کیے ہیں۔

بجلی اور گیس کے کنکشن لگوانے کے لیے نیشنل ٹیکس نمبر کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے جبکہ سٹاک مارکیٹ میں حصص کی خرید و فروخت پر عائد کیپٹل گین ٹیکس کو دس فیصد سے بڑھا کر بارہ فیصد کیا گیا ہے۔

کارپوریٹ سیکٹر پر عائد ٹیکس کی شرح پنتیس فیصد سے کم کر کے تنتیس فیصد کر دی گئی ہے جبکہ وہ تمام پرچون فروش جن کا بجلی کا بل ماہانہ بیس ہزار روپے ہو گا اُن پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہو گا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایسے تمام کاروباری حضرات جن کی دوکانیں ایئرکنڈیشنڈ پلازوں میں ہیں اور ان کا ماہانہ بجلی کا بل پچاس ہزار سے زیادہ ہے اُن پر لازم ہے کہ وہ سیلز ٹیکس کے قانون کے تحت اندارج کروائیں۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کسٹم ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح کو تیس فیصد سے کم کر کے بیس فیصد کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں