سی آئی اے سٹیشن ہیڈ کےخلاف مقدمے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان کی کسی بھی عدالت نے پہلی بار سی آئی اے کے سابق اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان میں امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق سٹیشن ہیڈ اور ان کے قانونی مشیر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے یہ حکم اسلام آباد پولیس کے افسر کو دیا ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس ضمن میں لیگل برانچ سے رائے لے کر قانونی کارروائی کرے گی۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کریم خان کی طرف سے ڈرون حملوں کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گُزار کے وکیل شہزاد اکبر نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے موکل کا بیٹا ذین اللہ اور اُن کے بھائی آصف کریم دسمبر 2009 میں میر علی میں ہونے والے ڈرون حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کے موکل کے عزیزوں کا نہ تو کسی شدت پسند تنظیموں سے تعلق تھا اور نہ ہی وہ کسی مقدمے میں مطلوب تھے۔

اُن نے کہا تھا کہ ڈرون حملوں میں بےگناہ افراد کی ہلاکت قتل کے ذمرے میں آتی ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کے رشتہ داروں کے قتل کی ذمہ داری اُس وقت پاکستان میں سی آئی اے کے سٹیشن ہیڈ جوناتھن بینکس اور لیگل ایڈوائزر جان ایروز پر عائد ہوتی ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے تھانہ سیکرٹریٹ کے ایس ایچ او عبدالرحمٰن کو ہدایات کی کہ یہ معاملہ قابل دست اندازی پولیس میں آتا ہے لہٰذا اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی کسی بھی عدالت نے پہلی بار سی آئی اے کے سابق اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

پولیس افسر عبدالرحمٰن نے کہا کہ وہ اس معاملے میں لیگل برانچ سے رائے لیں گے اور پھر اس کے بعد ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے درخواست گُزار جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں بھی ڈرون حملوں کا معاملہ لے کر جا چکے ہیں لیکن وہاں پر بھی اُن کی شنوائی نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں