ججوں، جرنیلوں کو مقدمے میں شریک کرنے پر فیصلہ محفوظ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سابق صدر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں اس وقت وفاقی کابینہ میں شامل افراد، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنروں، ارکان قومی اسمبلی اور کور کمانڈروں کے نام بھی مانگے گئے تھے

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے ملزم کی جانب سے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کے معاملے پر ارکان قومی اسمبلی، مسلح افواج کے سربراہوں اور ججوں کو شریکِ جُرم کرنے سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

یہ فیصلہ 13 جون کو سنایا جائے گا۔

اس درخواست میں ملزم پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ تین نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کے فیصلے کا اس وقت کی وفاقی کابینہ، سروسز چیفس، چاروں صوبائی گورنروں اور وزرائے اعلیٰ کو بھی پتہ تھا۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے جمعرات کو سابق صدر کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کی۔

اس مقدمے کے چیف پراسکیوٹر اکرم شیخ نے ملز م کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے خلاف دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تین نومبر سنہ 2007 سے پہلے وفاقی کابینہ کا جو اجلاس ہوا تھا اس میں کہیں بھی ملک میں ایمرجنسی لگانے کا ذکر نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ چھ نومبر سنہ 2007 کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے مرکزی ایجنڈے میں ایمرجنسی کی توثیق شامل نہیں تھی بلکہ اسے الگ سے شامل کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کابینہ کو ملک کو ایمرجنسی کے بارے میں بتایا تھا جب کہ سینئیر وکیل شریف الدین پیرزادہ نے کابینہ کے ارکان کو اس بارے میں بریفنگ دی تھی۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ شوکت عزیز نے اس وقت کے صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے کوئی سمری نہیں بھیجی تھی بلکہ ایک خط تحریر کیا تھا جس سے وفاقی کابینہ کے ارکان کی اکثریت لاعلم تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ وزیرِاعظم کی جانب سے بھیجے جانے والے خط کو سمری یا ایڈوائس نہیں کہا جاسکتا۔

چیف پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی سے متعلق اس وقت قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرارداد ضرور منظور کی گئی تھی لیکن اس اقدام کو پارلیمان سے توثیق کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے بطور آرمی چیف ملک میں ایمرجنسی لگائی تھی اور بعد میں آنے والے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملک سے ایمرجنسی اٹھانے کا اختیار واپس لے لیا گیا تھا اور یہ اختیار پرویز مشرف نے اپنے پاس رکھا تھا۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ استغاثہ کے پاس جتنی دستاویزات تھیں وہ وکیل صفائی کو فراہم کر دی گئی ہیں تاہم اگر ملزم کے وکیل چاہیں تو وہ خود بھی اضافی دستاویزات حاصل کر سکتے ہیں۔

سابق صدر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں اس وقت وفاقی کابینہ میں شامل افراد، چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنر، ارکان قومی اسمبلی اور کور کمانڈروں کے نام بھی مانگے گئے تھے۔

اسی بارے میں