جیو کا آئی ایس آئی، وزارت دفاع کو ہرجانے کا نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئی ایس آئی، وزارت دفاع اور پیمرا کی طرف سے لیگل نوٹس موصول ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے

پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو اور جنگ گروپ نے ادارے اور اس میں کام کرنے والے صحافیوں کو بدنام کرنے پر وزارت دفاع اور خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کو 50 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا ہے۔

اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ ادارے اور اس میں کام کرنے والے صحافیوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر 14 روز میں کھلے عام معافی مانگیں ورنہ اُنھیں عدالت میں لے جایا جائے گا۔

جنگ گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر شاہ رخ حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ وزارت دفاع، آئی ایس آئی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا اُن کے ادارے پر پاکستان مخالف ایجنڈے پر کام کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ مذکورہ اداروں نے اس الزام کے بارے میں ابھی تک کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔

تاہم ان اداروں کی طرف سے لیگل نوٹس موصول ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

شاہ رخ حسن کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اس ادارے میں کام کرنے والے آٹھ ہزار افراد کی زندگیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جنگ اور دی نیوز کی ہزاروں کاپیوں کو نذر آتش کرنے کے علاوہ اُن ہاکروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جو اخبارات کی ترسیل کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ اور جیو نے 19 اپریل کو حامد میر پر ہونے والے حملے کے بعد آئی ایس آئی اور اُس کے سربراہ سے متعلق جو مواد نشر کیا تھا اُس پر معافی بھی مانگی لیکن اس کے باوجود اُنھیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

جنگ گروپ کے مینیجنگ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ جو افراد اس ادارے کے کارکنوں کو نشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، وہ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ فوج کے خلاف باتیں کرنے والوں کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اُنھوں نے کہا کہ اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ فوج کے خفیہ ادارے کی آڑ میں کوئی تیسری قوت یہ کام سرانجام نہ دے رہی ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ 19 اپریل کے واقعے کے بعد جنگ گروپ کی انتظامیہ نے حکومت اور فوج کے متعلقہ افسران سے ملاقات کی بھی کوشش کی لیکن اُنھیں اس میں کامیابی نہیں ہو سکی۔

شاہ رخ حسن نے مزید کہا کہ ان کے ادارے نے لیگل نوٹس وزارت دفاع، آئی ایس آئی اور پیمرا کو بھجوائے ہیں اور اگر اُنھوں نے جیو اور جنگ کو بدنام کرنے پر سرعام معافی نہ مانگی تو پھر اُن کے پاس عدالت میں جانے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہو گا۔

اسی بارے میں