روسی ہیلی کاپٹروں کی خریداری پر پاکستان خاموش

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سودے کے بارے میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور روس نے کئی برس قبل پاکستان اور اسلحے کی فروخت پر عائد کردہ پابندی بھی اٹھا لی ہے

روس کی جانب سے پاکستان کوگن شپ اور مال بردار فوجی ہیلی کاپٹروں کی فروخت کی خبروں پر پاکستان نے محتاط رویہ اختیار کر رکھا ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز پر روسی سرکاری خبر رساں ادارے نے روسی دفتر خارجہ کے حوالے سے خبر دی تھی کہ روس نے پاکستان کو ایم آئی 35 اور ایم آئی 24 ہیلی کاپٹر فروخت کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس سودے کے بارے میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور روس نے کئی برس قبل پاکستان اور اسلحے کی فروخت پر عائد کردہ پابندی بھی اٹھا لی ہے۔

اس اہم سودے کے بارے میں پاکستان نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ اس طرح کے معاہدے کرنے کے ذمہ دار ادارے دفتر خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم کا کہنا ہے کہ وہ ان خبروں کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہیں:

’روس اور پاکستان کے درمیان فوجی سازوسامان کی خرید و فروخت کے معاہدے کے بارے میں بعض اطلاعات ہم تک بھی پہنچی ہیں۔ ہم ان خبروں کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس مرحلے پر ان اطلاعات پر اس سے زیادہ کچھ کہنا مناسب نہیں ہو گا۔‘

پاکستان روس سے ماضی میں اسی نوعیت کے ہیلی کاپٹر اور دیگر فوجی سازوسامان لیتا رہا ہے، تاہم افغانستان پر روسی قبضے اور روس مخالف افغان مجاہدین کو پاکستانی امداد کے بعد روس نے پاکستان پر ہر طرح کے فوجی سازوسامان کی فروخت پر پابندی عائد کر دی تھی۔

تاہم روسی سرکاری اسلحہ ساز ادارے کے سربراہ سرگے خیمازوف نے روسی سرکاری خبر رساں ادارے اتار تاس کو بتایا ہے کہ ان کی حکومت نے پاکستان پر عائد یہ یک طرفہ پابندی ختم کر دی ہے۔

سرگے خیمازوف نے بتایا: ’حکومت نے پاکستان کو متعدد ہیلی کاپٹر فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ہم ان کی فراہمی کے شیڈیول پر پاکستان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔‘

روسی اسلحہ ساز ادارے کے سربراہ کے مطابق پاکستان روس سے لڑاکا اور مال بردار ہیلی کاپٹرز خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

پاکستانی فوج 60 کی دہائی میں روس سے ملنے والے مال بردار ہیلی کاپٹر ابھی تک استعمال کر رہی ہے۔

اسی بارے میں