الطاف حسین سمیت تین افراد ضمانت پر رہا: پولیس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption الطاف حسین کی گرفتاری کے خلاف پاکستان میں ایم کیو ایم نے دھرنے دیے تھے

برطانیہ کی لندن میٹرو پولیٹن پولیس کے مطابق منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار تین افراد کو ابتدائی تفتیش کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے بیان کے مطابق پولیس نے 72 سالہ، 60 سالہ اور 32 سالہ شخص کو ضمانت پر رہاگیا۔

ایم کیو ایم کے ترجمان کے مطابق الطاف حسین کی ان کی رہائی جمعے کو رات گئے لندن کے سدرک پولیس سٹیشن سے عمل میں آئی۔ تاہم ترجمان نے ضمانت کی شرائط کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

پاکستان کو الطاف حسین تک رسائی مل گئی

’کارکن پرامن رہیں ، ‘ الطاف حسین کا ہسپتال سے فون

سکاٹ لینڈ یارڈ کے ایک ترجمان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کے معاملے میں حراست میں لیے جانے والے 60 سالہ شخص کو جولائی تک کے لیے ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے جبکہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

لندن میٹرو پولیٹن پولیس کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ رہائی ’پولیس ضمانت‘ پر عمل میں آئی ہے جس کا مطلب ہے کہ مذکورہ شخص (الطاف حسین) کو مقررہ تاریخ اور وقت پر دوبارہ تھانے آنا ہوگا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران ماضی میں بھی دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جنھیں رواں برس ستمبر تک ضمانت پر رہائی دی گئی ہے۔خیال رہے کہ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس قانونی وجوہات کی بنا پر الطاف حسین کا نام ظاہر نہیں کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

دوسری جانب قائد الطاف حسین نے ضمانت پر رہائی کے بعد اپنی جماعت کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جیل کسی کے لیے سزا کی جگہ ہو گی لیکن’یوں سمجھیے کہ میں ریفریشر کورس کے لیے جیل جاتا ہوں۔‘

الطاف حسین نے لندن میں ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ سے ٹیلی فون پر کراچی سمیت مختلف شہروں میں اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اصولی موقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے اور لندن میں اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

’میں برطانوی عدالتی نظام اور قانون کا احترام کرتا ہوں۔میرے وکلا برطانوی قانون کے مطابق مقدمہ دیکھ رہے ہیں اور فتح حق کی ہو گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کچھ ہو جائے وہ برطانوی حکام سے جھوٹ نہیں بولیں گے اور نہ ہی کسی قیمت پر ’سرنڈر‘ کریں گے۔

ایم کیو ایم کی ویب سائٹ کے مطابق الطاف حسین نے خطاب کے موقع پر مذاق کے انداز میں کہا کہ ’دیگر سیاسی رہنماؤں کو تو فقط پاکستان کی جیلوں اور تھانوں میں رہنے کا اتفاق ہوا، میں نے تو برطانیہ کی پولیس اور تھانے بھی دیکھ لیے اور یہ تجر بہ بھی صرف الطاف حسین نے کیا۔‘

انھوں نے اپنی حراست کے دوران ساتھ دینے پر وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے علاوہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

اس سے قبل ایم کیو ایم کے رہنما واسع جلیل نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ الطاف حسین کے وکلا نے جمعے کی شام ان کی ضمانت کے لیے درخواست جمع کروائی تھی جس پر مثبت فیصلہ آیا۔

برطانوی پولیس جمعے کی صبح الطاف حسین کو دوبارہ سدرک تھانے میں لے کر آئی تھی جہاں ان سے کئی گھنٹے تک تفتیش کی گئی۔

الطاف حسین منگل کی صبح برطانوی پولیس نے شمال مغربی لندن میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا تاہم بعدازاں انھیں علاج کے لیے ولنگٹن ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

ہپستال میں الطاف حسین کے طبی معائنے کے نتائج کی روشنی میں ڈاکٹروں نے تجویز کرنا تھا کہ میٹروپولیٹن پولیس ان کا انٹرویو کر سکے گی یا نہیں۔

ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد انھیں جمعے کی صبح تھانے منتقل کیا گیا جہاں ان کے وکلا کی موجودگی میں ان سے منی لانڈرنگ کے معاملے میں سوالات کیے گئے۔

یاد رہے کہ چند ماہ قبل لندن پولیس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں الطاف حسین کے دفتر پر چھاپے کے دوران وہاں سے نقد رقم برآمد ہوئی تھی جسے پروسیڈ آف کرائم ایکٹ کے تحت قبضے میں لے لیا گیا تھا۔

اس کے بعد پولیس نے 18 جون 2013 کو شمالی لندن کے دو گھروں پر چھاپہ مارا تھا اور اس میں بھی پولیس نے’قابل ذکر‘ مقدار میں رقم قبضے میں لی تھی۔ پولیس نے سرکاری طور پر ابھی تک یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ رقم کتنی تھی۔

اسی بارے میں