تنخواہ دار طبقہ آئندہ بجٹ کا انتظار کرے: اسحاق ڈار

Image caption نئے مالی سال کے بجٹ میں انکم ٹیکس کی مد میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی گئی ہے

پاکستان کے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں رعایت دینے کے معاملے پر اگلے بجٹ میں غور کیا جائے گا۔

اپنے مختصر بیان میں انھوں نے نجی کمپنیوں کے ملازمین کی ذمہ داری مکمل طور پر کمپنی مالکان پر ڈالتے ہوئے کم از کم تنخواہ 10000 سے بڑھا کر 12000 کرنے کے حکومتی فرض کی یاد دہانی کروائی ہے۔

نئے مالی سال کے لیے پیش کیے گئے حالیہ بجٹ میں مسلم لیگ ن کی حکومت نے اگرچہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کا اعلان ضرور کیا ہے مگر انکم ٹیکس کی مد میں کسی قسم کی رعایت نہیں دی گئی ہے۔ اس طرح نجی اداروں کے تنخواہ دار ملازمین کو اس سے کسی بھی قسم کا کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔

جبکہ سرکاری ملازمین میں سے بھی کئی ایسے ہیں جن کی تنخواہ 10 فیصد اضافے کے بعد انکم ٹیکس کے اُس درجے میں پہنچ گئی ہے جہاں 10 فیصد کا اضافہ حقیقت میں پانچ یا چھ فیصد ہی رہ جاتا ہے۔

پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ نہ صرف سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے بلکہ انکم ٹیکس کے گوشوارے بھی سب سے زیادہ باقاعدگی سے یہی طبقہ جمع کرواتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کئی تنخواہ دار افراد نے انکم ٹیکس کی مد میں کسی بھی قسم کی رعایت نہ دیے جانے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اختر حسین کراچی کی ایک نجی کمپنی میں ملازم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر مکان کا کرایہ، پیٹرول اور اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں کو دیکھیں تو آنے والے سال ہمارے لیے انتہائی مشکل سال ہوگا۔‘

آئندہ بجٹ سے امید

بی بی سی نے وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کو ایک طویل ایس ایم ایس کے ذریعے یہ سوال بھیجا گیا کہ انھوں نے تنخواہ دار طبقے کے لیے اس بجٹ میں کیوں کچھ نہیں رکھا جبکہ سرمایہ داروں کے کے لیے ٹیکس میں بڑی چھوٹ دی گئی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ’

1۔ تنخواہ دار طبقے کو کسی قسم کا ٹیکس میں رعایت دینے کے معاملے پر اگلے بجٹ میں غور کیا جائے گا۔

2۔ نجی کمپنیوں کے ملازمین کو ریلیف دینا ان کی کمپنی اور مالکان کی ذمہ داری ہے۔

3۔ حکومت نے کم از کم تنخواہ دس ہزار سے بڑھا کر 12000 کردی ہے۔

یاد رہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے پانچ برسوں میں ہر سال انکم ٹیکس لینے کی حد میں اضافہ کیا جاتا رہا تھا اور آخری سال میں یہ حد چار لاکھ سالانہ آمدنی تک بڑھادی گئی تھی۔

تاہم میاں صاحب کی حکومت کے اس پہلے باضابطہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے افراد کے لیے فی الحال صبر کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

اسی بارے میں