’حکومت کا کردار بہت منفی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Taliban Are Zaliman
Image caption اس سے قبل بھی فیس بُک پر کئی پیجز تک رسائی پر پابندی لگائی جا چکی ہے

پاکستان میں انٹرنیٹ کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے بائٹس فار آل کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی نے فیس بک پر موجود شدت پسندی کے خلاف آواز اٹھانے والے کئی پیجز تک رسائی پر پابندی لگا دی ہے۔

اس سلسلے میں جب پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی سے رابطہ کیا گیا کہ تو ان کے مختلف نمبروں پر حسبِ معمول کوئی جواب نہیں دے رہا تھا تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پی ٹی اے کے ترجمان خرم مہران نے تردید کی کہ پی ٹی اے نے ایسا نہیں کیا اور فیس بک نے خود ہی یہ پیج ہٹایا ہے۔

اس سلسلے میں بائٹس فار آل سے تعلق رکھنے والی گُل بخاری نے بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین میں کہا کہ ’ہمیں تو فیس بُک نے صاف اطلاع کی کیونکہ ہم ان سے رابطے میں تھے جب یہ پیجز بلاک کیے گئے ہیں تو فیس بُک نے ہمیں تصدیق کی کہ انہوں نے یہ پیجز پی ٹی اے کی درخواست پر ہٹائے۔ فیس بُک کا پی ٹی اے کے ساتھ معاہدہ ہے۔ یہ جو بھی معاہدہ ہے اس کی قانون میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔‘

دوسری جانب خرم مہران نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’ہمارا فیس بُک سے کوئی معاہدہ نہیں اور یہ سب جھوٹ ہے‘۔

جن پیجز پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں سے ایک پیج ’طالبان ظالمان ہیں‘ کے عنوان سے بھی تھا جس کو چلانے والے نوجوانوں میں سے ایک نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’حکومت ایک جانب طالبان اور شدت پسندی سے لڑنے کی بات کرتی ہے اور دوسری جانب ہمارے جیسے امن پسند کارکنوں کی زباں بندی کے لیے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔‘

’طالبان آر ظالمان‘ کے علاوہ جنوبی ایشیا میں بائیں بازو کے مقبول ترین فیس بک پیجز میں سے ایک لال تک رسائی پر بھی پابندی لگا دی گئی۔

اس حوالے سے بی بی سی کے ریڈیو پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے انٹرنیٹ کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ثنا سلیم کہا کہ ’اس پورے کے پورے مرحلے میں شفافیت ہے ہی نہیں۔‘

ثنا سلیم نے بتایا کہ ’یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ روشنی پی کے، طالبان ظالمان پیج بلاک ہوجاتا ہے جبکہ آئی ایس آئی، وزارتِ قانون، وزارتِ داخلہ کے لوگ اس کمیٹی میں ہیں جو بظاہر یہ فاصلے کرتی ہے لیکن جب طالبان کی عمر میڈیا کی ویب سائٹ بنتی ہے، لانچ ہوتی ہے، پریس ریلیز آتی ہے، دنیا بھر کے اخبارات اس کے بارے میں مضامین شائع کرتے ہیں تو وہ بلاک نہیں ہوتی ہے۔‘

ثنا نے اس پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ ’ریاست یہ بتائے کہ وہ ہمارے حقِ رائے کو نفرت سمجھتی ہے اور طالبان کی نفرت کو حقِ رائے سمجھتی ہے؟‘

گُل بخاری نے کہا کہ ’پی ٹی اے جسے ہم حکومت ہی کا اور اس ریاست ہی کا ایک بازو سمجھ سکتے ہیں تو کیا یہ ریاست جو ہے اس کو عمر میڈیا سے تو کوئی پریشانی نہیں ہے پریشانی اُن کو اُن لوگوں سے ہے جو امن چاہتے ہیں جو برداشت چاہتے ہیں جو آرام سے بات کرنا چاہتے ہیں۔‘

گُل بخاری نے حکومت کو براہِ راست موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ’میں کہتی ہوں حکومت چُپ نہیں بیٹھی ہے حکومت ایک کردار ادا کر رہی ہے اور وہ ایک نہایت منفی کردار ادا کر رہی ہے۔‘

’طالبان آر ظالمان‘ کے ماڈریٹر نے بتایا کہ ’اگر ہم انتہا پسندی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے اور ہم لوگ چُپ کر کے بیٹھ جائیں گے تو کیا اپنی باری کا انتظار کرتے رہیں بیٹھے؟ ہم سے جس قدر ہو سکتا ہے ہم آواز اٹھا رہے ہیں۔ جس قدر ہم امن کے لیے کام کر سکتے ہیں۔ ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے تاکہ ہم بتا سکیں کہ ہم نے کسی بھی صورت میں کردار ادا کیا ہے۔‘

یاد رہے کہ بائٹس فار آل کی رپورٹ اور اخبارات میں خبروں کے بعد لال بینڈ کے فیس بُک پیج تک رسائی کی بندش تک ختم کر دی گئی ہے مگر کئی دوسرے پیجز تک تاحال رسائی ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر آپ ان پر پاکستان میں یا پاکستان سے باہر پاکستانی پروفائل کے ساتھ کلک کریں تو فیس بُک آپ کو واپس آپ کی پروفائل پر لیجاتا ہے۔

اسی بارے میں