قوم پرست رہنما نواب خیر بخش ہسپتال میں داخل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جنرل ضیاالحق کے دور میں افغانستان سے واپس آکر خیر بخش مری نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی

بلوچستان کے بزرگ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کو طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے کراچی کے ایک نجی ہپستال میں داخل کیا گیا ہے۔

وہ کراچی میں گذشتہ ایک بڑے عرصے سے اپنی بیٹی کے پاس رہائش پذیر ہیں۔

جمعرات کو انھیں شہر کے نجی ہپستال میں داخل کیا گیا تھا۔ان کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ انھیں علاج کے لیے بیرون ملک لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کے لیے ان کا بڑا بیٹا اور بلوچستان کے صوبائی وزیر جنگیز مری سرگرم ہیں۔

واضح رہے کہ نواب خیر بخش مری نے عملی سیاسی سے کناہ کشی اختیار کر لی تھی۔ وہ میڈیا سے بھی انتہائی کم بات کرتے ہیں۔ آخری بار انھیں اس وقت میڈیا میں دیکھا گیا تھا جب سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو ان سے ان کے بیٹے بالاچ مری کی ہلاکت پر تعزیت کرنےگئی تھیں۔

نواب خیر بخش مری کے تین بیٹے گزین مری، حربیار مری اور مہران مری بیرون ملک رہتے ہیں، جبکہ ایک بیٹا گزین مری حکمران مسلم لیگ نون بلوچستان کے سرگرم رہنما ہیں، جن کے بارے میں نواب خیر بحش مری کہہ چکے ہیں کہ وہ ان کی املاک کا وارث ہے سیاسی نہیں۔

مارکسی نظریے کے پیروکار نواب مری نیشنل عوامی پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر تھے۔ سنہ 1970 کے انتخابات میں انھوں نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشتسوں پر کامیابی حاصل کی تھی جس کے بعد وہ قومی اسمبلی کی نشست سے دستبردار ہوگئے۔

اس وقت انتخابات کے بعد نواب خیربخش کے سیاسی ساتھی غوث بخش بزنجو گورنر اور سردار عطااللہ مینگل وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے لیکن دو سال کے بعد ان کی حکومت کو برطرف کرکے نیپ پر پابندی عائد کردی گئی اور نواب مری سمیت نیپ کی قیادت کو گرفتار کرلیا گیا۔

حکومت کے خلاف سازش کے مشہور مقدمے حیدرآباد سازش کیس سے رہائی کے بعد نواب خیر بخش مری نے مزاحمتی تحریک کا اعلان کیا اور اپنے قبیلے کے ساتھ افغانستان منتقل ہوگئے۔

جنرل ضیاالحق کے دور میں وہ افغانستان سے واپس آئے لیکن انھوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

اسی بارے میں