پر تشدد واقعات میں قبائلی رہنما اور دو شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پشاور اور اس کے مضافات میں مختلف قسم کے جرائم میں بڑی حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں دیسی ساختہ بم کے ایک دھماکے میں ایک قبائلی رہنما ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ پشاور شہر کے مضافات میں شدت پسندوں اور پولیس کے مابین جھڑپ میں دو شدت پسند ہلاک اور پانچ شہری زخمی ہوگئے ہیں۔

مہمند ایجنسی کی تحصیل انبار میں جوگی کور کے مقام پر ایک دیسی ساختہ بم کا دھماکہ اس وقت ہوا جب ملک عنایت موٹر سائیکل پر وہاں سے گزر رہے تھے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بتایا کہ نا معلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے نصب کیا تھا جس کے دھماکے میں ملک عنایت ہلاک ہوئے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک عنایت قبائلی رہنما تھے اور انبار میں امن لشکر کے سربراہ تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے ترجمان عمر خالد خراسانی نے ٹیلی فون پر اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ عوام دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

قبائلی علاقوں میں امن لشکر اور امن کمیٹیوں کے رضا کاروں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ دو روز پہلے باڑہ میں امن کمیٹی کے ایک رکن کو ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ اس سے پہلے باجوڑ اور مہمند ایجنسی میں بھی امن لشکروں کے اراکین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ادھر آج یعنی اتوار کو ہی پشاور کے قریب متنی کے علاقے میں پولیس اور مبینہ ٹارگٹ کلرز کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔

سپرنٹنڈنٹ پولیس شاکر بنگش نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ کچھ ٹارگٹ کلرز ادھر متنی کے علاقے میں موجود ہیں جن کے خلاف کارروائی کے لیے ٹیم وہاں پہنچی تھی۔

انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکار ابھی گاڑیوں سے اتر رہے تھے کے مسلح افراد نے ان پر فائرنگ شروع کر دی جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی ہے۔

فائرنگ کے تبادلے میں دو مبینہ ٹارگٹ کلرز ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ شہری بھی معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق ایسی اطلاع تھی کہ اس علاقے میں 20 کے لگ بھگ مسلح افراد موجود تھے جو شہر میں مختلف قسم کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔

متنی کا علاقہ پشاور کے جنوب میں درہ آدم خال اور ادھر خیبر ایجنسی کے علاقہ باڑہ کی سرحد پر واقع ہے۔

گذشتہ سال مارچ میں سرکاری اداروں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متنی اور بڈھ بیر کے علاقوں میں شدت پسندوں اور دہشت گردوں کی کارروائیوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اس رپورٹ کے بعد بھی ان علاقوں میں متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں لیکن سکیورٹی حکام اس کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کر پائے۔

چند روز پہلے محکمہ داخلہ کے حکام نے پشاور اور اس کے مضافات کا فضائی جائزہ لیا تھا اور ان مقامات کی نشاندہی کی تھی جہاں شدت پسند اور دیگر جرائم پیشہ افراد موجود ہو سکتے ہیں۔

پشاور اور اس کے مضافات میں مختلف قسم کے جرائم میں بڑی حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان جرائم میں اغوا برائے تاوان ، بھتہ خوری ، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم شامل ہیں۔

اسی بارے میں