بیوی کی ناک کاٹنے کے الزام میں پولیس اہلکار گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شاہدہ نے بتایا کہ ان کی شادی نو سال کی عمر میں ہوئی تھی اور اب ان کا دو سال کا بیٹا بھی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام ضلع سوات میں تحصیل کبل کے علاقے قلاگے میں پولیس کے مطابق سپیشل پولیس فورس کے ایک اہلکارنے مبینہ طور پر اپنی بیوی کی ناک کاٹ دی ہے۔

ایک مقامی پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سپیشل پولیس فورس کے اہلکار صاحبزادہ نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنی بیوی کی ناک کاٹ دی جس کے بعد پولیسں نے رپورٹ درج ہونے پر کارروائی کرتے ہوئے انھیں گرفتار کر لیا۔

تھانہ کبل کے محرر عمران نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اہلکار صاحبزادہ کی بیوی شاہدہ نے تھانے میں رپورٹ درج کراتے ہوئے بتایا کہ ان کی شادی نو سال کی عمر میں ہوئی تھی اور اب ان کا دو سال کا بیٹا بھی ہے۔

محرر کے مطابق شاہدہ نے کہا کہ ان کے شوہر نے بغیر کسی وجہ کے چھری سے ان کی ناک کاٹ دی اور پھر سسر اور شوہر نے شدید دباؤ اور تشدد کے کر کے انھیں گھر میں بند رکھا اور تھانے جانے سے منع کر دیا مگر وہ اپنے والدین کے گھر جانے کے بہانے وہاں سے نکل کر تھانے پہنچ گئی اور اپنے شوپر کے خلاف رپورٹ درج کرا دی۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ پولیس اہلکار کو اپنی بیوی شاہدہ پر کسی اور لڑکے کے ساتھ تعلقات کا شک تھا جس کی بنا پر انھوں نے بیوی کی ناک کاٹ دی ہے تا ہم اس کی بیوی نے اس بات کی سختی سے تردید کی۔

واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سوات میں زیادہ تر کیسز خواتین کے حوالے سے رپورٹ ہوتے ہیں اور بعض اوقات بڑے خاندانی دشمنیوں کا سبب بھی بنتے ہیں۔

گذشتہ روز بھی بونیر کے علاقے میں خواتین کے تنازعات پر چار افراد جس میں تین خواتین بھی شامل تھیں کو زندہ جلادیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ گھریلو تشدد پاکستان میں خواتین کے لیے ایک سنگین اور بڑھتا ہوا مسئلہ ہے حالانکہ پاکستان میں خواتین کو وراثت کے حق سے محروم رکھنے اور جبری شادی کو سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں