سخت سکیورٹی میں پروازیں بحال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو گذشتہ رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے بعد پیر کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے اور پی آئی اے کی پہلی پرواز پی کے 308 مسافروں کو لے کر اسلام آباد روانہ ہوگئی ہے۔

ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر انٹیلی جنس عباس میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں کو پرانے ٹرمینل تک ہی محدود رکھا گیا تھا اور انھیں نئے ٹرمینل کی جانب آنے نہیں دیا گیا نہ ہی کسی طیارے کو نقصان پہنچا۔ انھوں نے بتایا کہ حملہ آور پرانے ٹرمینل کے علاوہ کارگو شیڈ اور فوکر گیٹ میں ہی گھس سکے تھے جہاں انھیں گھیر لیا گیا اور مقابلے کے دوران وہ مارے گئے جبکہ تین حملہ آوروں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ اس کارروائی کے دوران اے ایس ایف کے 11 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 13 زخمی ہوئے۔

ایئرپورٹ کی موجودہ سکیورٹی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہاں سکیورٹی ہمیشہ ہی ہائی الرٹ رہتی ہے اور اسی لیے حملہ آوروں پر اتنی جلدی قابو پا لیا گیا۔

حملہ آوروں کی جانب سے اے ایس ایف کی وردیوں میں آنے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حملہ آور اے ایس ایف کی وردی سے ملتے جلتے کپڑے پہن کر آئے تھے کیونکہ نیلا کپڑا تو بازار میں با آسانی مل جاتا ہے۔

اس سے قبل دہشت گردوں کے بارے میں ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ شکلوں سے ازبک، چیچن اور افغان لگتے تھے۔

کراچی ایئر پورٹ حملہ، تصاویر میں

پانچ گھنٹوں کا آپریشن، ’دس حملہ آوروں سمیت 23 ہلاک‘

مہران اڈے پر حملے میں غیر ملکی ملوت تھے

دہشت گردوں کے خلاف کراچی کے ہوائی اڈے پر آپریشن کی کمان کرنے والے حکام میں شامل ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے کہا کہ یہ حملہ آور کلاشنکوفوں، گرینڈ لانچروں اور مقامی ساخت کے دستی بموں سے لیس تھے۔ انھوں نے کہا کہ حملہ آوروں کے قبضے سے خشک چنے اور پانی کی بوتلیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

کراچی کے ہوائی اڈے پر حملہ آوروں کے خلاف آپریشن میں فوج، رینجرز اور پولیس کے جوان شامل تھے اور یہ ساری رات جاری رہا اور اس میں دس کے دس حملہ آور ہلاک ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں اس خبر کی تردید کی ہے کہ کراچی ایئر پورٹ پر دوبارہ فائرنگ کا آغاز ہو گیا ہے

جناح ہسپتال کے شعبۂ حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی نے پیر کی صبح بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آوروں سمیت اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 29 ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہوائی اڈے پر تعینات مختلف اداروں میں کام کرنے والے 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں 11 ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکار، چار پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کے عملے کے ارکان، ایک رینجر کا جوان، ایک پولیس کا سپاہی اور ایک نامعلوم شخص شامل ہے۔

زخمیوں کے بارے میں ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ 26 افراد زخمی ہیں جن میں سے دو کی حالت تشویش ناک ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جن افراد کی حالت نازک ہے ان میں ایک رینجر کا اہلکار ہے جو وینٹی لیٹر پر ہے۔

حملے سے متعلق وزیر اعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کا منصوبہ پرانے اور نئے ہوائی اڈوں پر کھڑے تمام جہازوں کو تباہ کرنے کا تھا۔

دریں اثنا کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان فضل اللہ گروپ کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے کراچی ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ حملہ کالعدم تنظیم کے امیر حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سول ایوی ایشن شجاعت عظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور کراچی ایئر پورٹ میں فوکر گیٹ اور انٹرنیشنل کارگو گیٹ سے داخل ہوئے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہوائی اڈے کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور معمول کے آپریشنز دوپہر چار بجے سے شروع کر دیے جائیں گے۔

وزیر اعظم کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’حملہ آوروں کا مقصد ملکی ایوی ایشن کی صنعت کو تباہ کرنا تھا لیکن ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکاروں نے ان حملہ آوروں کی قائد اعظم جناح ٹرمینل کی جانب پیش قدمی روک دی۔‘

حتمی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے ایس ایف کی جانب سے کارروائی کے بعد رینجرز اور پولیس نے آپریشن میں حصہ لیا اور حملہ آوروں کو گھیرے میں لے کر ہلاک کیا۔

ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے ڈائریکٹر انٹیلی جنس ممتاز میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ دہشتگردوں کی اس کارروائی کے دوران نہ تو کسی مسافر طیارے کو نقصان پہنچا ہے اور نہ ہی کسی مسافر کو کوئی نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب کراچی کے ہوائی اڈے کے باہر دو خاندان بیٹھے ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان والے ایئر پورٹ پر ملازم تھے اور اب ان کا کچھ پتہ نہیں ہے۔

ایئرپورٹ کے باہر بیٹھیں کارگو میں کام کرنے والے سیف الرحمان کی والدہ نے نامہ نگار کو بتایا ’میری رات کو بات ہوئی تھی اور اس نے کہا کہ میں موبائل بند کرتا ہوں کیونکہ اس کی روشنی سے حملہ آور نہ آ جائیں۔ اس کے بعد سے کچھ پتہ نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ ہسپتال بھی گئی تھیں لیکن وہاں سے بھی کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل رینجرز رضوان اختر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن رات ساڑھے 11 بجے شروع ہوا اور صبح ساڑھے چار بجے ختم ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ دس حملہ آور پانچ پانچ کی دو ٹولیوں میں ایئر پورٹ میں داخل ہوئے تھے۔

ڈی جی رینجرز نے کہا کہ ایئر پورٹ کو کلیئر قرار دے دیا گیا ہے اور ایئر پورٹ حکام دوپہر سے آپریشنز کا آغاز کر سکتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ حملہ آوروں کے پاس غیر ملکی اسلحہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر شدت پسند اے کے 47 سے لیس تھے۔

ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ سات حملہ آوروں کو سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران ہلاک کیا ہے جبکہ تین نے اپنے آپ کو اڑا لیا۔

اسی بارے میں