پاکستان کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی مزید سخت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اتوار کی رات کراچی ایئرپورٹ پر شدت پسندوں کے حملے میں دس حملہ آوروں سمیت 28 افراد ہلاک ہو گئے تھے

کراچی ایئرپورٹ سے پیر کی سہ پہر رحیم یار خان کے لیے پی آئی اے کے جہاز کی پرواز نے ملک بھر میں ہوائی سفر کے منتظر مسافروں کو یہ پیغام تو بھیج دیا کہ پروازوں کا معمول بحال ہو رہا ہے لیکن انھیں ہوئی اڈوں پر سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات دیکھنے کو ملے۔

کراچی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی ریڈ الرٹ نافذ کر لیا گیا ہے۔

’دوسری ٹولی کہاں سے آئی‘

اسلام آباد، لاہور اور پشاور کے ہوائی اڈوں پر مسافروں کو کڑی تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے ۔تمام ہوائی اڈوں پر اتوار کی رات ہی کو سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی تھی جبکہ ایئرپورٹس سکیورٹی فورس کو چوکس کرنے کے علاوہ چھٹی پر گئے عملے کو بھی طلب کر لیاگیا۔ اس کے علاوہ مختلف سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔

مسافروں کے ساتھ جانے والے سامان کی تلاشی اور سکینگ پر بھی عملے کو بڑھا دیا گیا ہے جبکہ ہوائی اڈوں پر داخلے سے لے کر پارکنگ تک میں مسلح اہلکار کھڑے کیے گئے ہیں۔

Image caption حکام نے تقریباً پانچ گھنٹوں کی کارروائی کے بعد کراچی ایئرپورٹ کو کلیئر کر دیا جبکہ حکام کے مطابق حملے میں ہوائی اڈے پر کھڑے جہازوں کو نقصان نہیں پہنچا

اسلام آباد سے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بےنظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریڈ الرٹ ہے اور داخلے کے تمام خصوصی اجازت نامے معطل کر دیے گئے ہیں۔

لاہور میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بھی سکیورٹی ریڈ الرٹ نافذ ہے اور ہر مسافر کو تلاشی کے کڑے مراحل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔

ایئر پورٹ جانے والے راستے پر بھی خصوصی ناکے لگائے گئے ہیں اور گاڑیوں کی خصوصی تلاشی لی جا رہی ہے۔

نامہ نگار علی سلمان کے مطابق لاہور کا ہوائی اڈہ چھاؤنی کے علاقے میں ہے اس لیے راستے میں پولیس کے علاوہ فوج کے ناکے بھی لگائے گئے ہیں۔ ملک کے دوسرے بیشتر ہوائی اڈوں کو رات کے وقت سیل کر دیا گیا تھا تاہم پیر کی صبح آمدو رفت بحال ہوگئی، البتہ سکیورٹی بدستور ہائی الرٹ پر ہے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے پشاور ایئرپورٹ پر دسمبر 2012 میں شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا۔

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق کراچی کے واقعے کے بعد ایئرپورٹ کی سکیورٹی پہلے سے مزید سخت کر دی گئی ہے اور ایئرپورٹ کی بیرونی دیواروں کے باہر بھی پولیس کی نفری تعینات ہے۔ اس کے علاوہ ایئر پورٹ کو جانے والے راستوں پر اضافی سکیورٹی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔

پیر کو پشاور ایئر پورٹ پر پروازوں کا شیڈول بھی متاثر ہوا ہے۔ بعض پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ کچھ پروازیں پانچ سے چھ گھنٹے تاخیر سے پہنچی ہیں۔

اسی بارے میں