ٹوئٹر، کراچی ایئر پورٹ اور تفتان

 کراچی ایئر پورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملے کے پہلے گھنٹے میں کئی نیوز چینلوں نے ٹِکر چلانا شروع کر دیا کہ ہوائی اڈے پر موجود ایک طیارے کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے یا مختلف طیاروں کو آگ لگ گئی ہے

اگر کسی کو شک ہے کہ چونکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر تک کم پاکستانیوں کی رسائی ہے، اس لیے یہ خبروں کا اہم ذریعہ نہیں، تو کراچی کے ہوائی اڈے پر حملے کے دوران خبروں کے پھیلاؤ یہ شک ختم ہو جانا چاہیے۔

یہ درست ہے کہ نیوز چینلوں کی طرح ٹوئٹر پر غیر تصدیق شدہ خبریں بھی چلتی ہیں اور ہر قسم کی آرا بھی۔ تاہم ٹوئٹر میں انتخاب کی سہولت اور اہم شخصیات کی موجودگی کی وجہ سے غلط خبروں کی تصدیق اور تصحیح خود سے ہو جاتی ہے۔

ٹیلی وژن پر خبریں آپ کو دی جاتی ہیں اور ٹوئٹر پر لوگوں کی مرضی چلتی ہے کہ وہ کون سی خبر پڑھنا اور کس پر یقین کرنا چاہتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر ہوائی اڈے کے اندر کی صورتِ حال دیکھنا ہو، تو تصاویر موجود تھیں۔ اگر براہِ راست مسافروں کی کیفیت جاننی ہو تو سید سائم رضوی جیسے ٹوئٹر استعمال کرنے والے افراد حاضر تھے، جو ہوائی اڈے پر موجود تھے۔

انھوں نے ساڑھے بارہ بجے ٹویٹ کیا: ’لگتا ہے شدت پسند کسی مقامی ایئرلائن کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مجھے رن وے پر فوجی جوان نظر آرہے ہیں۔‘

پھر چند منٹ بعد ہی انھوں نے لکھا کہ راکٹ لانچر فائر ہوئے ہیں۔ اللہ میرے ملک، ان مسافروں کو اور ان تمام لوگوں کو بچائے جو وہاں موجود ہیں۔

دو گھنٹے بعد انھوں نے ٹویٹ کیا کہ تمام مسافروں کو محفوظ مقامات تک منتقل کر دیا گیا ہے۔

اگر یہ جاننا چاہتے تھے کہ کون کون سی پروازیں کو کن ہوائی اڈوں کی جانب موڑا جا رہا ہے تو سول ایوی ایشن اتھارٹی کا غیر سرکاری اکاؤنٹ بھی حاضر تھا۔ جس پر نہ صرف یہ معلومات بر وقت دی جا رہی تھی بلکہ لوگوں کے سوالوں کے جواب بھی جلد از جلد دیے جا رہے تھے۔

دوسری جانب سینیئر صحافی طاہر خان نے تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے سے پہلے ہی ٹوئٹر پر لکھا کہ طالبان کے غیر سرکاری اکاؤنٹس پر عربی میں حملے کی تفصیلات نشر کی جا رہی ہیں۔

کراچی کے حملے میں ٹوئٹر پر یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ سویلین حکومت کی بجائے فوج نے اس جدید ذریعے کو بہتر طور پر استعمال کیا اور یقینی بنایا کہ فوج کا موقف نمایاں رہے۔

اگرچہ دونوں کی وجوہات مختلف تھیں، لیکن پاکستانی فوج اور تحریکِ طالبان نے ٹوئٹر کے ذریعے اس بات سے اتقاق کیا کہ ٹیلی وژن کوریج میں ضابطہ اخلاق کا خیال نہیں رکھا گیا۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ جنرل عاصم باجوہ نے ٹی وی چینلوں سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوسرے گھنٹے میں ہی ٹویٹ کیا کہ ’ہوائی اڈے کے اندر لائیو کوریج رک جانی چاہیے کیونکہ کارروائی میں مداخلت ہو رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز اور اثاثوں کے بارے میں معلومات فراہم کی جا رہی ہیں جس سے شدت پسندوں کو مدد مل رہی ہے۔‘

جنرل عاصم باجوہ نے درخواست کی تھی لیکن تحریکِ طالبان پاکستان مہمند کے عمر خراسانی کی غیر سرکاری اکاؤنٹ پر دھمکی دی گئی: ’کراچی کے حملے میں میڈیا کا کردار شرمناک اور جانبدارانہ تھا۔ میڈیا مالکان، قابلِ نفرت رپورٹروں اور اینکروں کو خیال رکھنا چاہیے کہ فدائین آپ کے دفاتر تک با آسانی پہنچ سکتے ہیں۔‘

کئی صحافیوں نے بھی ٹی وی کوریج پر تنقید کی۔ حملے کے پہلے گھنٹے میں کئی نیوز چینلوں نے ٹِکر چلانا شروع کر دیا کہ ہوائی اڈے پر موجود ایک طیارے کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے یا مختلف طیاروں کو آگ لگ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سویلین حکومت کی بجائے فوج نے ٹوئٹر کو بہتر طور پر استعمال کیا اور یقینی بنایا کہ فوج کا موقف نمایاں رہے

صحافی اور تجزیہ نگار عافیہ سلام نے اس وقت ٹویٹ کیا: ’ایسی سنگین خبر کو ذرائع کا حوالہ دیے بغیر کیوں چلایا جا رہا ہے؟‘ انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ہلاک شدگان کے نام پہلے میڈیا نے ظاہر کیے: ’کیا میڈیا کراچی میں ہلاک ہونے والے افراد کے نام کا اعلان نہ کر کے حساسیت کا مظاہرہ کر سکتا ہے؟‘

کراچی کی صورتِ حال اگرچہ ٹوئٹر کی گفتگو پر حاوی رہی تاہم پاکستان سے ایک اور بڑی خبر ٹوئٹر پر زیادہ پیچھے نہیں تھی۔ بلوچستان اور ایران کے سرحد کے قریب شیعہ زائرین پر حملوں کا ٹرینڈ تفتان کے نام سے دوسرے نمبر پر رہا۔ تاہم چینل اور ٹوئٹر صارفین ناقدین کا نشانہ بنے۔

سینئر صحافی نسیم زہرہ نے ٹویٹ کیا کہ ’ہوائی اڈے کی خبر بہت بڑی ہے لیکن تفتان میں قتلِ عام بھی ہے۔ کیا 34 زائرین اور سکیورٹی فورسز کی خبر اتنی غیر اہم تھی کہ کسی چینل نے توجہ نہ دی؟‘

ایک اور صحافی اجمل شبیر نے لکھا کہ ’کل صرف 33 شیعہ تفتان میں مارے گئے تھے۔ شیعہ افراد کا قتلِ عام جاری ہے لیکن کس کو پروا ہے۔ انھیں برابر کا انسان نہیں سمجھا جاتا۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں جماعت الدعوۃ نے کراچی اور تفتان دونوں حملوں کی مذمت کی۔ اہلِ سنت والجماعت کے ترجمان کی اس بارے میں پہلی ٹویٹ نے رینجرز کے اس دعوے کو اچھالا کہ حملہ آوروں کے پاس مبیہ طور پر بھارتی اسلحہ تھا۔

اسی بارے میں