’پرانے ہوائی اڈے پر حملے کا الرٹ جاری کیا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY
Image caption ’گذشتہ کچھ عرصے کے دوران وزارت داخلہ نے چھ سکیورٹی الرٹ جاری کیے تھے جن میں سے دو سکیورٹی الرٹ کراچی سے متعلق تھے‘

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اس سال مارچ میں سندھ کی صوبائی حکومت کو کراچی میں پُرانے ہوائی اڈے پر شدت پسندوں کے ممکنہ حملوں کے بارے میں ایک سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا۔

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس سکیورٹی الرٹ میں اُسی جگہ کا ذکر کیا گیا تھا جہاں سے شدت پسندوں نے اتوار کو حملہ کیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران وزارت داخلہ نے چھ سکیورٹی الرٹ جاری کیے تھے جن میں سے دو سیکورٹی الرٹ کراچی سے متعلق تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’حیرت کی بات ہے کہ شدت پسند جن کے پاس اتنا زیادہ اسلحہ اور آتش گیر مواد موجود تھا اُنھیں کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں سے کسی نے بھی روک کر چیک نہیں کیا۔‘

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ اس حملے میں شدت پسند اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے جس کا تمام تر کریڈٹ ایئرپورٹ سیکورٹی فورس، رینجرز اور پاکستانی افواج کو جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پوری قوم کو شدت پسندوں کے خلاف اکٹھا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا کہ دس حملہ آوروں میں سے سات کی لاشیں سکیورٹی فورسز کے پاس ہیں جو قابل شناخت ہیں اور وہ حلیے سے غیر ملکی معلوم ہوتے ہیں۔ تاہم اُنھوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان حملہ آوروں کا تعلق کس ملک سے تھا۔

اُنھوں نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ ان حملہ آوروں کے حلیے ہمسایہ ملک کے لوگوں سے نہیں ملتے۔ مبصرین کے مطابق ہمسایہ ملک سے وزیر داخلہ کی مراد بھارت سے تھی۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں نے اے ایس ایف کی یونیفارم سے ملتے جُلتے کپڑے پہن رکھے تھے جبکہ اُن کے پاس راکٹ لانچروں کے علاوہ جدید اسلحہ ادویات اور کھانے پینے کی اشیا کا ایک خاصا ذخیرہ بھی تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بڑی منصوبہ بندی سے آئے تھے اور اُن کا مقصد لوگوں کو یرغمال بنا کر حکومت سے مطالبات منوانا تھا۔

وزیر داخلہ کی تقریر کے دوران حزب اختلاف کے ارکان نے شور مچانا شروع کر دیا کہ شدت پسندوں نے دوبارہ کراچی میں پرانے ہوائی اڈے پر حملہ کردیا ہے، تاہم وزیر داخلہ اُس وقت اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔

یاد رہے کہ پیر کے روز ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے کراچی اور بلوچستان میں ہونے والے واقعات پر وزیر داخلہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی بارے میں