وزیراعظم کی انتخابی اصلاحات تیار کرنے کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے گذشتہ برس ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی جلسوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے

وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں آزاد، صاف اور شفاف انتخابات یقینی بنانے کے لیے انتخابی اصلاحات کا پیکیج تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سپیکر قومی اسمبلی کو لکھے گئے ایک خط میں وزیراعظم نے انتخابی اصلاحات کی تیاری کی ذمہ داری سینیٹ اور قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کو دینے کی ہدایت کی ہے۔

منگل کے روز تحریر کیے گئے خط میں وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق سے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ’اس کمیٹی کو اتنا بااختیار بنایا جائے کہ یہ کسی بھی فرد، جماعت یا گروہ کی جانب سے انتخابی عمل کو شفاف اور موثر بنانے کے لیے ہر قسم کی تجاویز پر غور کرے، چاہے اس میں آئینی ترامیم ہی کیوں نہ شامل ہوں۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ انتخابی عمل کے دوران جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے بھی تجاویز تیار کی جائیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ کمیٹی عبوری دور میں الیکشن کمیشن کی تشکیل کے لیے پیش کی گئی تجاویز پر بھی غور کرنے کی مجاز ہونی چاہیے۔

وزیراعظم نے اس مجوزہ کمیٹی کو اپنی تجاویز تیار کرنے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے انتخابی اصلاحات کا یہ منصوبہ بعض مبصرین کی نظر میں بظاہر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے انتخابی عمل کے خلاف تحریک کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔

عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف نے گذشتہ برس ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی جلسوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

گذشتہ ایک ماہ میں ان کی جماعت نے اسلام آباد، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں بڑے عوامی جلسے کیے ہیں اور عمران خان کا کہنا ہے کہ شکایات کے ازالے تک وہ اس تحریک کو جاری رکھیں گے۔

اس سلسلے میں سنیچر کے روز سیالکوٹ میں ہونے والے جلسے میں عمران خان نے کہا تھا: ’میں آپ لوگوں پر ایک بات واضح کر دوں اب جو آپ اس دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں، تو اپنا مقصد حاصل کیے بغیر اگر گھروں کو واپس چلے گئے تو یہ نظام پھر کبھی تبدیل نہیں ہو سکے گا۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز حکومت عمران خان کی جانب سے اس بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے کے لیے انتخابی اصلاحات کا اعلان کرنا چاہتی ہے۔

اس سلسلے میں منگل کی صبح ایوان وزیراعظم میں نواز شریف نے اپنے قریبی سیاسی مشیروں کے ساتھ اس موضوع پر طویل تبادلہ خیال کیا جس میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور قومی امور پر وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان صدیقی بھی موجود تھے۔

اسی بارے میں