شمالی وزیرستان میں دو ڈرون حملے، ’16 افراد ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاکستان میں امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں کا سلسلہ کئی برس سے جاری ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی حکام کے مطابق دو مختلف امریکی ڈرون حملے کیے گئے ہیں جن میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کم سے کم 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رواں سال کے دوران پاکستان میں امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کا پہلا موقعہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق بدھ کی رات کو شمالی وزیرستان کے گاؤں درگاہ منڈی میں ایک ڈرون حملہ ہوا جس کے بعد جمعرات اور بدھ کی درمیانی شب کو میران شاہ کے قریب دانڈے درپہ خیل میں بھی ڈرون حملہ کیا گیا۔

حکام نے ان حملوں میں کم سے کم تین شدت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ خبر رساں ادارے نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ پہلے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ازبک جنگجو اور مقامی طالبان کے اراکین شامل تھے۔

یہ حملے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ہوائی اڈے پر شدت پسندوں کے منظم حملے کے تین دن بعد ہوئے ہیں۔ کراچی حملے میں حملہ آوروں سمیت 30 سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔

کراچی کے ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری پہلے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور پھر اسلامک موومینٹ آف ازبکستان نے قبول کی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی طیاروں نے جعرات اور بدھ کی درمیانی شب دانڈے در پہ خیل میں چھ میزائل داغے جس میں دس افراد ہلاک ہوئے۔

ایک مقامی سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ تین امریکی طیاروں نے اس وقت چھ میزائل داغے جب شدت پسند شمالی وزیرستان میں ایک کمپاؤنڈ کے باہر اکھٹے ہوئے تھے۔

سکیورٹی اہلکار کے مطابق حملے میں شدت پسندوں کی دو گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔

خیال رہے کہ رواں برس مارچ میں اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل نے ڈرون طیاروں کے بارے میں پاکستان کی قرارداد منظور کرتے ہوئے دنیا کے تمام ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ بغیر پائلٹ والے ڈرون طیاروں کے استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔

پاکستان میں ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد بہت عرصے سے متنازع ہے۔

پاکستان میں حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج کیا جاتا ہے اور اسے ملکی سالمیت کی اصولی خلاف ورزی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فائدے سے زیادہ نقصان پہنچانے والا حربہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ امریکہ ڈرون حملوں کے استعمال کو منصفانہ جنگ قرار دیتا ہے۔

پاکستان میں امریکی ڈرون طیاروں کے حملوں کا سلسلہ کئی برس سے جاری ہے اور اس میں جہاں تحریکِ طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود، نائب امیر ولی الرحمن، اہم کمانڈر مولوی نذیر اور قاری حسین کے علاوہ القاعدہ کے کئی اہم رہنما مارے گئے ہیں وہاں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں