’ایئرپورٹ حملے سے سندھ حکومت دیر تک لاعلم تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’سندھ حکومت کے کہنے پر وہاں پر چیف سیکریٹری اور سندھ پولیس کے سربراہوں کو تعینات کیا گیا لیکن وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں‘

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سندھ کی حکومت کراچی کے پرانے ہوائی اڈے پر شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے سے رات گئے تک لاعلم تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ وقوعہ کے روز جب وفاقی سیکریٹری داخلہ نے صوبہ سندھ کے چیف سیکریٹری سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا تو وہ لا علم تھے اور پھر بعد ازاں اُنھوں نے بتایا کہ متعقلہ تھانے کا انچارج موقع پر گیا ہوا ہے اور ابھی تک وہ وہاں سے واپس نہیں آیا اور جب وہ واپس آ کر بتائے گا تو وفاقی حکومت کو اس بارے میں آگاہ کر دیا جائے گا۔

جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں اپنے چیمبر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اس واقعے کو روکنے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکامی پر اس کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد کر رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے کہنے پر وہاں پر چیف سیکریٹری اور سندھ پولیس کے سربراہوں کو تعینات کیا گیا لیکن وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کسی بھی پولیس افسر کا نام لیے بغیر کہا کہ جن پولیس افسران نے کراچی میں امن بحال کرنے کے لیے کام کیا تو اُنھیں ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی کے پرانے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں فرائض میں غفلت برتنے پر ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے عدالتی تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہے۔

چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وفاقی حکومت پر الزام عائد کرنے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں حصہ لینے والے جن شدت پسندوں کی تصاویر ایک کالعدم تنظیم کی طرف سے جاری کی گئی ہیں وہ ان شدت پسندوں سے ملتی ہیں جو سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے جائے وقوعہ پر مارے گئے۔

اسی بارے میں