’بلوچستان کی صورتحال مشرقی پاکستان جیسی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’نوجوانوں کو ’کِل اینڈ ڈمپ‘ (قتل کر کے پھینک دینا) کے آپریشنوں میں مارا جاتا ہے۔ اس طرح کی قبضہ گیری آج کے دور میں نہیں چل سکتی‘

لگ بھگ تین سو سال تک قلات ایک آزاد ریاست تھی۔ آج وہ محض بلوچستان کا ایک ضلع ہے۔ لیکن خان آف قلات آج بھی ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ میرسلیمان داؤد خان جو سابق ریاست قلات کے 35ویں رہنما ہیں، پچھلے سات برس سے برطانیہ میں ویلز کے دارالحکومت کارڈف میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

سلیمان داؤد خان اکثر لندن آتے جاتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں جب وہ یہاں تھے تو ان سے ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان، بلوچ علیحدگی پسندی، فرقہ واریت، لاپتہ افراد اور حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کا تفصیلی ذکر رہا۔

سلیمان داؤد کہتے ہیں کہ بلوچستان کی موجودہ صورتحال ماضی کے مشرقی پاکستان جیسی ہے: ’گو بنگلہ دیش پر پاکستان کا قبضہ نہیں تھا، لیکن اسٹیبلشمنٹ اسے راولپنڈی سے کنٹرول کرنا چاہ رہی تھی۔ تاہم جس دن سے پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ کیا، تب سے یہ پانچویں بغاوت ہے۔ ہر وقت ظلم ہوتا رہا ہے اور آج کی دنیا میں اس قسم کی مثال اور کہیں نہیں ملے گی۔ نوجوانوں کو ’کِل اینڈ ڈمپ‘ (قتل کر کے پھینک دینا) کے آپریشنوں میں مارا جاتا ہے۔ اس طرح کی قبضہ گیری آج کے دور میں نہیں چل سکتی۔‘

کیا بلوچ مزاحمت کار اسلام آباد پہنچ رہے ہیں؟

خان آف قلات کے خیال میں صحافی حامد میر پر فائرنگ بھی اسی لیے ہوئی کہ انھوں نےدو تین بار اپنے پروگرام میں بلوچوں کو دعوت دی۔ اسی وجہ سے انھیں ٹارگٹ کیا گیا۔

حال ہی میں دیکھنے کو آیا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسند گروہوں کی کارروائیوں میں مزید شدت آئی ہے اور وہ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنانے لگے ہیں۔ میں نے سلیمان داؤد سے پوچھا کہ یہ کیسی سیاست ہے اور کیسی تحریک؟

’جہاں تک سویلین ہلاکتوں کا تعلق ہے تو جس جنگل میں آگ لگی ہو اس میں سب جلتے ہیں۔ فوج بلوچستان میں جن کارروائیوں میں ملوث ہے جیسے کہ ٹارچر اور قتل تو اس کا رد عمل تو ہو گا۔ لیکن اگر آپ موازنہ کریں تو جو ظلم اسٹیبلشمنٹ اور سٹیٹ کر رہی ہے اس میں اور جو علیحدگی پسند کرتے ہیں ان کی تعداد اور معیار میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جہاں تک سویلینوں کو مارنے کا تعلق ہے تو وہ جو بھی کر رہا ہے غلط کر رہا ہے۔‘

اور اس جنگ میں ان کی اپنی جگہ؟

’میرا تعلق بلوچ قوم اور بلوچ سر زمین سے ہے۔ یہ جو جدوجہد چل رہی اس میں ہر کسی کا حق ہے کہ وہ اپنا دفاع کر سکے۔‘

شاید دفاع کا لفظ اس لیے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی بلوچ عسکریت پسند نہیں: ’ہمارا کلچر اور ہم بھی تاریخی حساب سے سیکیولر ہیں اور ہم نے ہمیشہ دوسرے مذہب کے لوگوں کی حفاظت کی ہے۔ ہم نے کبھی بھی کسی پر دباؤ ڈال کر ان کا مذہب تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ بھی راولپنڈی کے کارنامے ہیں۔‘

پاکستان میں سرکاری اہلکار اور فوج اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ بلوچستان کی شدت پسند تنظیموں کو بیرون ممالک سے مدد ملتی ہے: ’بھارت اور پاکستان ہمیشہ ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں۔ آج تک پاکستان کی طرف سےکوئی ثبوتنہیں پیش کیا گیا۔‘

خان آف قلات کے مطابق آج کی بغاوت پچھلی چار بغاوتوں سے ایک اہم لحاظ سے مختلف ہے: ’ماضی میں تعلیم اتنی نہیں تھی اور اب میڈیا اور انٹرنیٹ ہے جن سے کوئی چیز بھی چھپی نہیں رہ سکتی۔‘

پچھلے سات برس میں سلیمان داؤد خان کو پاکستانی حکومت کی طرف سے واپس آنے کی دعوت بھی ملی لیکن اس کے باوجود وہ یورپ ہی میں رہے۔ تو پھر بلوچستان کی آزادی میں ان کے کردار کا کیا ہوا؟

’میں ایک امن پسند راستہ اپنا کر بلوچ آزادی کے لیے لڑ رہا ہوں۔ میرا کام دنیا کو بلوچستان کے بارے میں آگاہ کرنا ہے کہ کیسے پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ قبضہ گیری کے ذریعے ہمارے وسائل چھینتی ہے۔ میرا مقصد بلوچستان میں جو انسانی حقوق کے حوالے سے درد ناک کہانی ہے اور ایک سلو موشن نسل کشی ہو رہی ہے اس کو منظر عام پر لانا ہے۔‘

خان آف قلات چاہتے ہیں کہ پاکستان کو دی جانے والی مغربی امداد اس وقت تک کم یا ختم کر دی جائے جب تک پاکستان بلوچستان کی انسانی حقوق کی صورتحال پر غور نہیں کرتا۔

اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں ایک حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔

اس کے ثبوت میں وہ دو سال قبل ہونے والے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس کا ذکر کرتے ہیں جہاں بلوچستان کی وجہ سے دنیا کے 79 ممالک نے پاکستان کی انسانی حقوق کی صورتحال پر تنقید کی۔ اسی طرح امریکی کانگریس میں بھی بلوچستان کی بارے میں 2012 میں اجلاس ہوا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں وہ اپنا کیس اور مضبوط بنا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جلد ہی پاکستان کی طرف سے کی جانے والی خلاف ورزیاں مزید منظر عام پر آئیں گی: ’پاکستان میں زندگی کی کوئی اہمیت نہیں۔ جب بین الاقوامی عدالت میں ظلم کرنے والوں کو سزا ملے گی تو پاکستان کی اصلی شکل سامنے آئے گی۔‘

کیا کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے جس میں وہ تصور کر سکتے ہیں کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ رہے؟

’70 سالوں میں عدم اعتماد بہت گہرا ہو چکا ہے۔ اس دوران ہمیں خودمختاری سے غلامی تک لایا گیا ہے اور یہ بہت لمبا فاصلہ ہے جو ایک دن میں طے نہیں ہوا۔ اسے 70 سال لگے ہیں۔ لیکن ہم نے ایک بات ضرور کی ہے۔ اگر پاکستان ہمارے ساتھ بات کرنا چاہتا ہے تو بیچ میں کوئی ضامن ہونا چاہیے خواہ وہ اقوام متحدہ ہو، امریکہ، برطانیہ یا یورپی یونین ہو۔ ان کے سامنے دونوں اپنا نظریہ پیش کریں۔ اس کے علاوہ مجھے کوئی اور راستہ دکھائی نہیں دیتا۔‘

اسی بارے میں