پنجاب کا 10 کھرب، 44 ارب روپے کا بجٹ پیش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صحت کے لیے 86 ارب 88 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جو گذشتہ برس سے 33 فیصد زیادہ ہیں: صوبائی وزیرِ خزانہ

پاکستان کے صوبے پنجاب کے وزیرِ خزانہ مجتبی شجاع الرحمان نے اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے دوران آئندہ مالی سال کے لیے پنجاب کا تقریباً 1044 ارب سے زائد حجم کا بجٹ پیش کردیا۔

اپنی تقریر کے دوران صوبائی وزیرِ خزانہ مجتبی شجاع الرحمان نے لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کو پہلی ترجیع قرار دیا اور بتایا کہ پنجاب میں اگلے مالی سال کے دوران توانائی کے منصوبوں پر 31 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں برس دسبمر تک قائد اعظم سولر پارک سے 100 میگا واٹ بجلی کی پیداوار شروع ہو جائے گی، ساہیوال اور فیصل آباد میں کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس لگائے جا رہے ہیں جن سے 1620 میگاواٹ بجلی حاصل ہوگی۔

پنجاب کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے 273 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں پانچ دانش سکول قائم کیے گئے جائیں جن کے لیے دو ارب کی رقم رکھی گئی ہے۔

صوبے میں خواتین کی تین نئی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی جبکہ ذہین بچوں کی تعلیم کے لیے قائم کیے گئے ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی رقم 11 ارب روپے کردی جائےگی۔

صحت کے لیے 86 ارب 88 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جو گذشتہ برس سے 33 فیصد زیادہ ہیں۔ ہیلتھ انشورنس سکیم پر چار ارب روپے خرچ کیے جائیں گے جس سے کم آمدنی والے افراد کو نہ صرف سرکاری بلکہ نجی ہسپتالوں میں مفت علاج کی سہولت حاصل ہو گی۔

ہپستالوں کی اپ گریڈیشن کے لیے 47 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ جنوبی پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 119 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں جو کہ پنجاب کے کل ترقیاتی بجٹ کا 36 فیصد ہے۔

صوبائی وزیرِخزانہ نے بتایا کہ حکومت آئندہ چار برس میں 70 لاکھ افراد کو خطِ غربت سے اوپر لے جانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کے لیے چار برسوں میں روزگار کے 40 لاکھ مواقع پیدا کیے جائیں گے اور 20 لاکھ افراد کو فنی تربیت دی جائے گی۔

نوجوانوں کو فنی تعلیم دینے کے لیے بجٹ میں چھ ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

مجتبی شجاع الرحمان نے پولیس کے بجٹ میں 16 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ بجٹ میں امنِ عامہ کے لیے پانچ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صوبے میں ریسکیو1122 کا دائرہ کار 36 تحصیلوں تک بڑھایا جائے گا۔ ملتان اور فیصل آباد میں میٹرو بس جبکہ دو سال میں لاہور میں میٹرو ٹرین کا منصوبہ مکمل کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔

پنجاب میں 166 سی سی لگرثری گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس جبکہ آٹھ کینال سے زائد رقبے پر مشتمل گھروں پر بھی ٹیکس لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مجتبی شجاع الرحمان کا کہنا تھا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے ایک میگا پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے جس کے لیے پانچ ارب رکھے گئے ہیں۔

وزیرِ خزانہ کے مطابق فیصل آباد، گجرانوالہ، راولپنڈی، سیالکوٹ اور بہاولپور میں سالڈ ویسٹ منحمنٹ کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے کاشکاروں کو کھاد کی فراہمی کے لیے دس ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی جب کہ صوبے میں کم سے کم اجرت 10 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔

وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی مسلسل جاری رہی اور ارکان نعرے بازی بھی کرتے رہے۔

اسی بارے میں