مشرف کا نام ای سے ایل سے نکالنے کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وفاقی حکومت کی طرف سے وزارت داخلہ کے سیکشن افسر عامر سہیل کی جانب سے اٹارنی جنرل کے دفتر کی وساطت سے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے

وفاقی حکومت نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حکومت کی اس درخواست کا فیصلہ نہیں ہوجاتا اُس وقت تک سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار قرار دیا جائے۔

یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے چند روز قبل سابق فوجی صدر کی درخواست پر اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے کاحکم دیا تھا۔ تاہم اس حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس فیصلے پر عمل درآمد پندرہ روز کے بعد ہوگا تاکہ اگر مخالف فریق چاہے تو وہ اس عرصے کے دوران اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کر سکتا ہے۔

سنیچر کو وفاقی حکومت کی طرف سے وزارت داخلہ کے سیکشن افسر عامر سہیل کی جانب سے اٹارنی جنرل کے دفتر کی وساطت سے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔

جس میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کرنا سندھ ہائی کورٹ کے دائرہ سماعت میں نہیں تھا کیونکہ سیکریٹری داخلہ نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کیا تھا اور اس ضمن میں اُنھوں نے دو اپریل سنہ 2014 کو پرویز مشرف کی طرف سے اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متعلق درخواست مسترد کردی تھی۔

اس درخواست میں مزید کہا گیا اس سے پہلے سندھ ہائی کورٹ نے 23 دسمبر سنہ 2013 کو پرویز مشرف کی طرف سے اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے سے متلق درخواست مسترد کرچکی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی گئی ہے جس میں ملزم کے بقول اُن کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ بار راولپنڈی بینچ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سپریم کورٹ کا جو حتمی فیصلہ آیا ہے اُس میں پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا کوئی حکم موجود نہیں ہے۔

اس درخواست میں وفاق کا موقف ہے کہ ملزم پرویز مشرف کے خلاف غداری کے علاوہ قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت دیگر مقدمات درج ہیں۔ ان مقدمات میں اُن کی ضمانتیں تو ہوچکی ہیں لیکن کسی بھی مقدمے سے اُن کا نام خارج نہیں کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے میں اب گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے اور اس مقدمے کے اس مرحلے میں کیسے ملزم کا نام ای سی ایل سے نکالا جاسکتا ہے۔

درخواست گُزار کا کہنا ہے کہ اگر پرویز مشرف کا ملک سے باہر جانا ناگُزیر ہوتو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی اجازت لےکر باہر جائیں۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ نے ملزم پرویز مشرف کی جانب سے سندھ کورٹ کی طرف سے اُن کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے فیصلے پر پندرہ دنوں کے بعد عمل درآمد سے متعلق دائر کی گئی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

سابق فوجی صدر کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چونکہ اُن کے موکل کی والدہ بیمار ہیں اس لیے اُنھیں فوری طور پر باہر جانے کی اجازت دی جائے۔

اسی بارے میں