شمالی وزیرستان میں لوگوں کی مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام کے مطابق تین روز پہلے تک شمالی وزیرستان سے بنوں پہنچنے والے 62 ہزار سے زیادہ افراد کا اندراج کیا چکا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن اور کرفیو کے باعث مقامی افراد کو متاثرہ علاقوں سے باہر نکلنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

شمالی وزیرستان کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے ہیں جب کہ اطلاعات کے مطابق افغانستان کی سرحد پر بھی آنے جانے پر پابندی ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ ان علاقوں میں محصور ہو چکے ہیں۔

ادھر بنوں شہر کے مضافاتی علاقوں میں دو علیحدہ علیحدہ مقامات پر متاثرین کے لیے کیمپ قائم کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

بنوں میں حکام نے بتایا کہ تین روز پہلے تک شمالی وزیرستان سے بنوں پہنچنے والے 62 ہزار سے زیادہ افراد کا اندراج کیا چکا ہے۔

حکام کے مطابق ان میں سے بڑی تعداد میں لوگ بنوں کے علاوہ دیگر شہروں کی جانب چلے گئے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ تحصیل میر علی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے جب کہ میران شاہ بازار، دتہ خیل اور شوال کے علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔

ان علاقوں میں لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں لیکن کرفیو کی وجہ سے وہ گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان چار تحصیلوں میر علی، میران شاہ، دتہ خیل اور شوال میں لگ بھگ ایک لاکھ افراد ایسے ہو سکتے ہیں جو کرفیو اٹھائے جانے کے بعد محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو سکتے ہیں۔

غیر سرکاری تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق شمالی وزیرستان ایجنسی کی کل آبادی لگ بھگ ساڑھے سات لاکھ تک ہے۔

نقل مکانی کرنے والے متاثرہ افراد کے لیے بنوں شہر کے مضافات میں دو کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں۔ ایک کیمپ ایف آر بنوں میں بکا خیل کے مقام پر اور دوسرا بنوں لنک روڈ پر قائم کیا جا رہا ہے۔

ان دونوں مقامات پر زمین ہموار کرنے کے لیے مشینیں پہنچ چکی ہیں جس کے بعد خیمے نصب دیے جائیں گے۔ دونوں خیمہ بستیاں شہر سے دور واقع ہیں۔ لنک روڈ پر واقع کیمپ میں پانی کی شدید قلت ہے اور وہاں بجلی بھی نہیں ہے۔

لوگوں کا کہنا ہے گرمی کے موسم میں اس مقام پر رہنا انتہائی مشکل ہے۔

شمالی اور جنوبی وزیرستان کے قبائلی افراد کیمپوں کی نسبت اپنے رشتہ داروں یا کرائے کے مکانوں میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد ٹانک یا ڈیرہ اسماعیل خان میں کسی قسم کا کوئی پناہ گزین کیمپ قائم نہیں کیا گیا۔

بنوں میں حالات بظاہر معمول پر نظر آ رہے ہیں لیکن لوگوں میں خوف ضرور پایا جاتا ہے۔

شہر کے اندر سکیورٹی کے کوئی زیادہ انتظامات نظر نہیں آ رہے تاہم شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس اہل کار تعینات ہیں۔

پشاور سے بنوں تک راستے پر مختلف مقامات پر فوجی قافلے نظر آئے جن میں سے بیشتر پشاور کی جانب روانہ تھے۔

اسی بارے میں