شمالی وزیرستان: ’بڑے حملے کی تیاریاں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نقل مکانی کرنے والے لوگوں سے بھری ہوئی کم و بیش ایک ہزار گاڑیاں بدھ کو بنوں پہنچی ہیں

پاکستانی حکام نے ضرب عضب آپریشن کے چوتھے روز شمالی وزیرستان سے عام شہریوں کے انخلا کے لیے کرفیو میں نرمی کی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کے خلاف کوئی بڑی فوجی کارروائی ہونے والی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق پاکستانی فوج نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر شمالی وزیرستان میں طالبان اور دوسرے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے ٹینکوں اور جیٹ طیاروں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

عسکریت پسندوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے بدھ کو صبح سویرے دو امریکی ڈرونز نے بھی شمالی وزیرستان میں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق الصبح ایک ڈرون حملے میں شمالی وزیرستان ایجنسی کے علاقے میران شاہ کے قریب درگاہ منڈی میں ایک مکان اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے اور اس حملے میں دو راکٹ داغے گئے ہیں۔

نقل مکانی

بنوں سے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ میر علی میں آج یعنی بدھ سے کرفیو میں دو روز کے لیے نرمی کی گئی ہے جبکہ جمعرات کو میران شاہ میں کرفیو میں نرمی کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہری علاقوں کی طرف آنے والے افراد کی چھان بین کی جاتی ہے تاکہ ان میں عسکریت پسند شامل نہ ہو سکیں

اے ایف پی کے مطابق ہزارہا افراد پہلے ہی متوقع فوجی کارروائی والے علاقے سے نکل چکے ہیں اور نقل مکانی کرنے والے لوگوں سے بھری ہوئی کم و بیش ایک ہزار گاڑیاں بدھ کو بنوں پہنچی ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا تھا کہ میر علی سے سینکڑوں افراد بنوں کی جانب جا رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ لوگ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر قافلوں کی شکل میں بنوں جا رہے ہیں۔

انھوں نے بنوں کے کمشنر سید محسن شاہ کے حوالے سے بتایا کہ کرفیو کا مقصد عام شہریوں کو نقل مکانی کا موقع دینا ہے اور اس عمل کو مرحلہ وار انداز میں پورا کیا جائے گا۔

نامہ نگار نے بتایا کہ اگرچہ بنوں اور قبائلی علاقے کی سرحد پر پناہ گزینوں کے اندراج کے لیے کیمپ لگایا گیا ہے تاہم پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے متاثرہ افراد کا بڑا حصہ اس کیمپ کا رخ نہیں کر رہا۔ انھوں نے کہا کہ زیادہ تر افراد بنوں میں اپنے رشتہ داروں کے یا پھر کرائے کے گھروں میں پناہ لے رہے ہیں۔

ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ’میران شاہ اور میر علی کے قصبوں کو پہلے ہی عام لوگوں کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور ان قصبوں سے عام لوگوں کے انخلا کے ساتھ ہی زمینی فوج میران شاہ اور میر علی میں داخل ہو جائے گی۔

’شروع میں زمینی فوجی شمالی وزیرستان کے بڑے قصبوں میں داخل ہو گی اور پھر وہاں پر اپنا کنٹرول مستحکم کرنے کے بعد فوجی نواحی علاقوں میں جائیں گے۔ اس کے بعد ہم دیہاتوں اور پہاڑوں کی جانب رخ کریں گے اور یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ہر عسکریت پسند کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔‘

فوجی کارروائی اور ڈرون حملے

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ چند روز سے پاکستانی فوج نے ضربِ عضب کے نام سے ایک جامع فوجی آپریشن شروع کیا ہوا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ فوجی آپریشن کے دوران ڈرون حملہ کیا گیا ہو۔

اس سے قبل 11 جون کو پاکستانی حکام نے تصدیق کی تھی کہ شمالی وزیرستان میں دو مختلف امریکی ڈرون حملے کیے گئے جن میں مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کم سے کم 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ رواں سال کے دوران پاکستان میں امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں کا پہلا موقع تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 11 جون کو پاکستانی حکام نے تصدیق کی تھی کہ شمالی وزیرستان میں دو مختلف امریکی ڈرون حملے کیے گئے

یاد رہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان اور حکومتِ پاکستان کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے امریکی حکام نے پاکستان میں ڈرون حملے روکنے کی ہامی بھری تھی تاہم اب یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

ادھر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب میں 25 غیر ملکی اور مقامی شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کے علاوہ ان کی کمین گاہوں، ٹریننگ کیمپوں اور بارودی سرنگوں کی فیکٹری بھی تباہ کر دی گئی ہے۔

دریں اثنا افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل جوزف ڈنفورڈ نے کہا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں پاکستانی فوج کی جانب سے جاری آپریشن کے پیشِ نظر پاک افغان سرحد پر نگرانی بڑھا دی ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب اپنے طے شدہ منصوبے کے تحت جاری ہے۔ میر علی اور میران شاہ کے قصبوں سمیت شدت پسندوں کے تمام ٹھکانوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق فوجی کارروائی آبادیوں میں نہیں ہو رہی اور تصدیق کے بعد تمام عام شہریوں کا محفوظ انخلا ہو گیا ہے، جب کہ آرمی کے دستوں کی تعیناتی کے ذریعے بےگھر ہونے والے افراد کے کیمپوں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ علاقے کی فضائی نگرانی جاری ہے۔

سکیورٹی سخت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption آئی ایس پی آر کے مطابق مجموعی طور پر 140 شدت پسند مارے گئے ہیں، جن میں اکثریت ازبک باشندوں کی ہے

اس دوران پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور قصبوں میں حساس مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، فوجی دستے مستعد ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کر رہے ہیں۔ بیان کے مطابق فوجی دستے شہری انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون قائم رکھے ہوئے ہیں۔

منگل کے روز شمالی وزیرستان میں سڑک کے کنارے نصب بم پھٹنے کے نتیجے میں چھ سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے تھے۔ اتوار سے شروع ہونے والے آپریشن میں پاکستان کی سکیورٹی فورسز کو یہ پہلا جانی نقصان ہے۔

شمالی وزیرستان ایجنسی کے علاقے شوال میں جیٹ طیاروں نے شدت پسندوں کے چھ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جن میں مزید 27 شدت پسند مارے گئے ہیں۔ بیان کے مطابق اس علاقے میں کوئی شہری آبادی نہیں تھی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اتوار کو ہونے والے کامیاب حملوں میں مجموعی طور پر 140 شدت پسند مارے گئے ہیں، جن میں اکثریت ازبک باشندوں کی ہے۔ بیان کے مطابق ان حملوں میں دہشت گروں کے ایک بڑے رابطہ مرکز کو تباہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں