بلوچستان میں 15 ارب کے خسارے کا بجٹ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مشیر خزانہ نے کہا کہ صحت کے شعبے کے لیے 14 ارب 14 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے آئندہ مالی سال 15-2014 کے لیے مجموعی طو پر215 ارب روپے سے زائد کا بجٹ پیش کیا گیا جس میں 15 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔

بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 50 ارب 74 کروڑ 20 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ ایک کھرب 35 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

ترقیاتی بجٹ میں تعلیم اور صحت کے علاوہ امن وامان ، آب نوشی ، مواصلات اور توانائی کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے جبکہ ملازمین کے لیے دس فیصد ایڈہاک ریلیف اور پنشن میں دس فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران چار ہزار کے قریب نئی اسامیاں پیدا کی جائیں گی۔

آئندہ مالی سال کا بجٹ جمعرات کی شام وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے خزانہ میر خالد لانگو نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا۔ مشیر خزانہ نے بتایا کہ صوبے کی مجموعی آمدن کا تخمینہ 200 ارب روپے ہے جبکہ مجموعی اخراجات کا تخمینہ 215 ارب 71 کروڑ 30 لاکھ روپے ہے۔ اس طرح آئندہ مالی سال کے دوران بلوچستان کو15ارب66کروڑ روپے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ صوبائی مشیرنے کہا کہ حکومت بلوچستان کی مالی مشکلات کو دیکھتے ہوئے بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لئے سختی کے ساتھ بچت پر عمل پیرا ہے اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کرکے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ نہوں نے کہا کہ آنے والے مالی سال کے بجٹ میں امن وامان کے لئے17ارب25کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جو موجودہ مالی سال کے مقابلے میں27فیصد زیادہ ہیں۔

پیش کیے گئے بجٹ کے مطابق ہائی ویز پر عوام کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے پولیس اور لیویز فورس کو 2 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔تعلیم سے متعلق ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ ترقیاتی و غیرترقیاتی اخراجات کی مد میں تعلیم کے شعبے کے لیے 28 ارب 98 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جوکہ رواں مالی سال کے لیے مختص رقم کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہیں۔

مشیرِ خزانہ نے بتایا کہ پانچ ارب روپے کی خطیر رقم سے بلوچستان انڈاؤمنٹ فنڈ کے تحت بلوچستان ایجوکیشن انڈاؤمنٹ کمپنی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے ذریعے سالانہ 5000 طلبہ وطالبات کو ملکی و غیر ملکی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے وظائف دییے جائیں گے۔

صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران اس شعبے کے لیے 14 ارب 14 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہیں۔

انھوں نے اجرت کی کم از کم شرح نو ہزار روپے سے بڑھا کر دس ہزا روپے ماہوار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ دس ہزار روپے ماہوار سے کم تنخواہ پر ملازم رکھنا قابل سزا جرم تصور ہوگا۔

اسی بارے میں