کراچی ایئر پورٹ حملے کی پیش رفت نہ ہو سکی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کراچ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے نتیجے میں دس طالبان حملہ آوروں سمیت 38 افراد ہلاک ہوئے تھے

کراچی ایئرپورٹ پر حملے کی تفتیش میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کوئی بڑی پیش رفت حاصل نہیں کرسکے ہیں۔

پولیس نے اس حوالے سے عام شہریوں کی مدد حاصل کرنے کے لیے حکومت کو انعام دینے کی تجویز پیش کی ہے۔

کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے نتیجے میں دس طالبان حملہ آوروں سمیت 38 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کی پہلے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بعد میں اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے ذمے داری قبول کی تھی۔

اس کارروائی کے بعد بلاآخر شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا گیا۔

کراچی پولیس کے سربراہ غلام قادر تھیبو نے بی بی سی کو بتایا ’کچھ مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم تفتیش کر رہی ہے۔ ان ملزمان سے کچھ موبائل فون سمز بھی برآمد ہوئی ہیں جن میں سے کچھ مقامی اور کچھ افغانستان کی ہیں۔‘

پولیس چیف کے مطابق تفتیش کے دوران کچھ مثبت اشارے ملے ہیں جن کی بنیاد پر وہ آگے بڑھ رہے ہیں تاہم معاملے کی حساسیت کی وجہ سے وہ مزید تفصیلات بیان نہیں کرسکتے۔

غلام قادر تھیبو کے مطابق حملہ آوروں میں سے کچھ نے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کی وردی اور جوگر شوز پہنے ہوئے تھے۔ اندرونی طور پر انھیں کسی کی حمایت حاصل تھی اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے تاہم ابھی تحقیقات جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے صوبائی حکومت کو سفارش کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں انعام کا اعلان کرے تاکہ اگر عام شہریوں کے پاس اس واقعے کے حوالے سے کوئی معلومات ہے تو وہ پولیس کے ساتھ شیئر کرے۔

ملک کے سب سے زیادہ سرگرم ایئرپورٹ پر حملے میں کتنا مالی نقصان ہوا اور اس کی نوعیت کیا تھی یہ اعداد و شمار تاحال سامنے نہیں آسکے ہیں تاہم سول ایوی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم کی تحقیقاتی کمیٹی ابھی تحقیقات کر رہی ہے۔

اس سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کراچی ایئرپورٹ کے دورے کے دوران بتایا تھا کہ تین طیاروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ کارگو ٹرمینل بھی متاثر ہوا۔

دوسری جانب ہلاک ہونے والے دس حملہ آوروں کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔

ان کی لاشیں ایدھی سرد خانے میں موجود ہیں جہاں پولیس اور رینجرز بھی نگرانی کے لیے تعینات ہے۔

اسی بارے میں