جو نواب مری کا ’سیاسی وارث نہیں‘ وہ مری قبیلے کا نواب مقرر

Image caption نوابزادہ جنگیز مری اپنے والد کی سیاسی حکمت عملی کے برعکس پاکستان کے بھر پور حامی ہیں جس کی وجہ سے ان کے والد انھیں اپنا سیاسی وارث نہیں سمجھتے تھے

پاکستان کے بلوچ قوم پرست سیاستدان نواب خیر بخش مری کے بڑے صاحبزادے نوابزادہ جنگیز مری کو مری قبیلے کا نواب مقرر کر دیا گیا ہے۔

تاہم اس سلسلے میں نواب فیملی میں اختلافات سامنے آئے ہیں اور بیرون ملک مقیم نواب مری کے بیٹوں نے انھیں نواب بنانے کی مخالفت کی ہے۔

بلوچستان کے بلوچ قبائل میں سے مری قبیلے کا شمار بڑے اور جنگجو قبائل میں ہوتا ہے۔

نواب خیر بخش مری کی وفات کے بعد قبیلے کے سربراہ کی حیثیت سے نوابزادہ جنگیز مری کو پگڑی پہنانے کی تقریب جمعرات کو کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔ اس موقعے پر حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔

ان انتظامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مخصوص افراد کے چند ذاتی محافظوں کے سوا قبیلے کے دیگر لوگوں کی جیبوں سے چھوٹی قینچیاں بھی نکال لی گئیں۔

سریاب روڈ پر واقع جنگیز مری کی ذاتی رہائش گاہ پر مری قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق وہاں پر موجود قبائلی عمائدین نے پگڑی پہنانے کی رسم ادا کی۔

مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے میر شاہ زمان مری نے دعویٰ کیا کہ قبیلے کی تمام شاخوں نے متفقہ طور پر جنگیز مری کو قبیلے کا نواب مقرر کیا ہے۔

جنگیز مری سنہ 1955 میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ پہلی مرتبہ سنہ 90 کی دہائی میں سبی سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور نواب مگسی کی حکومت میں وزیر بنے۔

دوسری مرتبہ وہ 2013 میں اپنے آبائی ضلع کوہلو سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس وقت صوبائی وزیر آبپاشی و برقیات ہیں۔ سیاسی حوالے سے جنگیز مری کا تعلق حکمران جماعت مسلم لیگ ن سے ہے۔

نواب خیر بخش مری نے ہمیشہ بلوچ قوم پرستی کی سیاست کی۔ انھوں نے 1973 کے آئین پر بھی دستخط نہیں کیے تھے۔ بلوچ قوم پرستی کی سیاست کی وجہ سے انھیں مجموعی طور بلوچ عوام بالخصوص نوجوانوں میں بڑی پذیرائی حاصل تھی۔

نوابزادہ جنگیز مری اپنے والد کی سیاسی حکمت عملی کے برعکس پاکستان کے بھر پور حامی ہیں جس کی وجہ سے ان کے والد انھیں اپنا سیاسی وارث نہیں سمجھتے تھے۔

میر شاہ زمان مری بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ بڑے بیٹے کی حیثیت سے نواب جنگیز مری کا حق ہے۔

نواب مری بلوچستان کے معدنی وسائل کو بلوچوں کی ملکیت سمجھتے تھے۔ ان کی مخالفت کی وجہ سے گذشتہ چار پانچ دہائیوں میں طاقت کے اصل مراکز کی جانب سے بھر پور کوششوں کے باوجود انھیں نواب مری کے آبائی ضلع کوہلو سے معدنی وسائل نکالنے کے سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔

بلوچستان میں قوم پرست جن مسلح کارروائیوں کو مسلح جدوجہد قرار دیتے ہیں، نواب خیر بخش مری کا ان میں سب سے بڑا کردار رہا ہے۔

افغانستان میں جلاوطنی کے دوران قبیلے کی بڑی شاخ بجارانی کے بعض عمائدین نے90 کی دہائی میں اعلان کیا تھا کہ وہ نواب مری کو قبیلے کا سربراہ تسلیم نہیں کرتے۔

جمعرات کو نواب بنانے کی تقریب میں بجارانی قبیلے کی ایک اہم شخصیت اور70 کی دہائی میں مسلح کارروائیوں کے ایک بڑے کمانڈر میر ہزار خان بجارانی بھی شریک تھے۔

میر ہزار خان بجارانی کا شمار نواب خیر بخش مری کے سخت ترین مخالفین میں ہوتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری روایات ہیں، اختلافات ہوتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے سے بات نہ کریں۔‘

میر ہزار خان بجارانی نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگیز مری ہمارے قبیلے کے سردار ہیں اور ان کو متفقہ طور پر سردار مقرر کیا گیا ہے۔

سنہ 1990 کی دہائی میں مری قبیلے کی تقسیم کو قوم پرستوں کی جانب سے اقتدار کے اصل مراکز کی سازش قرار دیا گیا تھا لیکن اس تقسیم سے بظاہر نواب خیر بخش مری کی حیثیت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا، بلکہ سابق صدر پرویز مشرف کی دورِ حکومت میں ان کی گرفتاری کے بعد ان کی پذیرائی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

جہاں نواب خیر بخش مری خود نوابزادہ جنگیز مری کو اپنا سیاسی اور فکری جانشین نہیں سمجھتے تھے وہاں ان کے بیرون ملک مقیم چار بیٹوں نے بھی ان کو نواب بنانے کی مخالفت کی ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کے بیٹوں کے جو بیانات سامنے آتے رہے ہیں ان میں یہ کہا گیا ہے کہ جنگیز مری کو سرکار کی ایما پر نواب بنایا گیا ہے ان میں سے بعض نے نواب مری کی موت کے حوالے سے جنگیز مری پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

میر ہزار خان بجارانی کا کہنا ہے کہ جنگیز مری کے بھائیوں کو منانے کی کوشش کی جائے گی۔

نواب خیر بخش مری کی وجہ سے حکومتوں بالخصوص طاقت کے اصل مراکز کو بلوچستان میں زیادہ تر سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جنگیز مری قبیلے کا نواب بننے کے بعد حکومت کے لیے کوئی آسانی پیدا ہو سکے گی یا نہیں۔

اسی بارے میں