اسلام آباد کے مضافات میں دھماکہ، 50 افراد زخمی

Image caption دھماکا اس وقت ہوا جب لوگ محفلِ قوالی میں شرکت کے بعد واپس گھروں کو جا رہے تھے:اے اے ایس پی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے مضافاتی علاقے پنڈوریاں میں ایک درگارہ میں ہونے والے دھماکے میں50 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ جمعے کو رات کے وقت پنڈوریاں میں درگاہ پیر چن بادشاہ کے میلے میں ہوا۔

ایڈیشنل ایس پی رضوان گوندل نے بی بی سی کو بتایا کہ اس دھماکے میں تقریباً 50 افراد زخمی ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ دھماکہ آتش گیر مادے سے کیا گیا جسے ایک لوہے کے ڈبے میں چھپا کر وضو کرنے ولی جگہ پر رکھا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ محفلِ قوالی میں شرکت کے بعد واپس گھروں کو جا رہے تھے۔

دھماکہ خیز مواد کا وزن تقربیاً آدھا کلو تھا۔ انھوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد کم ہونے کی وجہ سے لوگ شدید زخمی نہیں ہوئے اور زخمیوں میں زیادہ افراد کی حلات مستحکم ہے۔

زخمیوں کو اسلام آباد کے پمیز اور پولی کلینک ہسپتال منتقل کر لیا گیا ہے۔

دھماکے کے بعد رینجرز اور پولیس کے اہلکار وہاں پہچنے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔

تھانہ شہزاد ٹاؤن میں اس وقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے تاہم کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

یاد رہے کہ پنڈوریاں گاؤں اسلام آباد اور راولپنڈی کو ملانے والی شاہراہ اسلام آباد ہائی وے کے قریب واقع ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت کو شدت پسندوں سے محفوظ بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس، رینجرز اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں پر مشتمل ریپیڈ رسپانس فورس کے اہلکاروں نے منگل سے شہر میں گشت کرنا شروع کر دیا ہے۔

اس فورس کے اہلکار خفیہ اداروں کی طرف سے شدت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کے بارے میں بھیجی جانے والی رپورٹس پر کارروائی کرنے کے مجاز بھی ہوں گے۔

خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت کو شدت پسندوں سے محفوظ بنانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پنجاب پولیس، رینجرز اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں پر مشتمل ریپیڈ رسپانس فورس کے اہلکاروں نے مئی کے آخر میں شہر میں گشت کرنابھی شروع کر دیا تھا۔

اس فورس کے اہلکاروں کو خفیہ اداروں کی طرف سے شدت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کے بارے میں بھیجی جانے والی رپورٹس پر کارروائی کرنے کا بھی مجاز بنایا گیا تھا۔

اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی آپریشن محمد علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ شہر کو 13 زون میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں شہری اور دیہی علاقے بھی شامل ہیں اور ہر زون میں اس کی افادیت اور سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے دو سے چار گاڑیاں 24 گھنٹے گشت کریں گی۔

اسی بارے میں