لیہ میں لڑکی ریپ کے بعد قتل

Image caption پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف کئی بار مظاہرے ہو چکے ہیں

صوبہ پنجاب کے ضلع لیہ کے علاقے نواں کوٹ میں ایک 20 سالہ لڑکی کو زیادتی کے بعد قتل کر کے اس کی لاش کو درخت کے ساتھ باندھ دیا گیا۔

لیہ کے ضلعی پولیس افسر غازی محمد صلاح الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لڑکی سے زیادتی ہوئی ہے اور اس نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے گلا گھونٹ کر مارا گیا ہے اور پھر اس کے گلے میں کپڑا ڈالا گیا۔‘

پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ضلعی پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’لڑکی کے گھر والوں نے ایف آئی آر میں جس شخص کو نامزد کیا تھا، پولیس نے اسےگرفتار کر لیا ہے۔‘

جنوبی پنجاب کے علاقے لیہ کے ایک نواحی دیہات نواں کوٹ میں جمعرات کو پولیس کو لڑکی کے لاپتہ ہونے کے بارے میں اطلاع دی گئی تھی اور اس کے بعد لڑکی کے گھر والے رات بھر پولیس کے ساتھ اسے ڈھونڈتے رہے لیکن کوئی کامیابی نہ ہو سکی۔

جمعے کی صبح اس لڑکی کی لاش پولیس چوکی سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک درخت کے ساتھ بندھی ہوئی پائی گئی۔

لڑکی کے ایک رشتے دار کا کہنا ہے کہ ’صبح چھ بجے کے قریب ہم نے دوبارہ تلاش شروع کی اور ہم گاوں کے پاس ہی غلہ منڈی تک گئے۔ غلہ منڈی کے پاس درختوں کا بڑا سا جھنڈ ہے۔ ہم نے دیکھا کہ وہاں درخت کے پاس ایک ڈھیر سا پڑا ہے۔ ہم قریب گئے تو دیکھا کہ ہماری لڑکی کی لاش ہے جس کے گلے میں اس کے دوپٹے کا پھندا ہے اور وہ لٹکی نہیں ہوئی بلکہ اس کی لاش کو درخت کے ساتھ لگا کر گلے میں دوپٹہ ڈال کر درخت سے باندھ دیا گیا تھا تاکہ خودکشی کا تاثر دیا جا سکے۔‘

لڑکی کے والد نابینا ہیں۔ واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ان کی بچی رات رفعِ حاجت کے لیے 11 بجے گھر سے نکلی اور کافی دیر تک واپس نہیں آئی۔ جب اسے فون کیا تو ایک بار اس نے فون اٹھایا اور کہا کہ وہ جلدی گھر آ رہی ہے لیکن اس کے بعد نہ وہ آئی اور اس کا فون بھی بند ہوگیا۔

’میری بیٹی کو اغوا کیا، مارا پیٹا اس کی ٹانگ توڑی اور پھر اس کے گلے میں پھندا ڈال کر اسے قتل کردیا گیا۔‘

واقعے کی آیف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ لڑکی کے خاندان کے مطابق اس کی غلہ منڈی کے ایک منشی سے دوستی تھی جو دودھ بیچنے اس کے گاؤں آیا کرتا تھا۔ لڑکی کے گھر والوں کو شبہ ہے کہ وہ اس کے قتل میں ملوث ہو سکتا ہے۔ اس شخص کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور پولیس اس کی تلاش کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔

لڑکی کے گھر والوں کے مطابق اس کے جسم پر تشدد کے نشان تھے اور اس کی ایک ٹانگ بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے اور ڈی پی او کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کریں۔

لیہ کو پنجاب کا سب سے پسماندہ ضلع مانا جاتا ہے۔ جہاں آبادی کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور وہاں بنیادی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اسی بارے میں