منہاج القرآن سیکریٹیریٹ واقعے پر رانا ثنا اللہ مستعفی

Image caption صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ شہباز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے کہنے پر صوبائی وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق منہاج القرآن سیکریٹیریٹ کے واقعے پر صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے اپنا استعفیٰ وزیر اعلیٰ کو پیش کیا جس کو منظور کر لیا گیا ہے۔

اس سے قبل پنجاب کے وزیرِاعلیٰ میاں شہباز شریف نے لاہور میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں ’میں نے چند مشکل فیصلے‘ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ کے بقول انھوں نے ڈاکٹر توقیر جو کہ ’15 سال سے میرے سیکریٹری اور چھوٹے بھائیوں کی طرح‘ ہیں، ان کو بھی اپنے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔

لاہور: پولیس سے تصادم میں آٹھ افراد ہلاک

لاہور میں پتھراؤ، ہنگامہ اور ہلاکتیں

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ یہ مشکل فیصلے اس لیے کیے گئے ہیں تاکہ انصاف کا حصول ہو سکے۔ انھوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کی مسلم لیگ نون کے لیے خدمات بہت ہیں۔

یاد رہے کہ منگل کے روز پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن کے سیکریٹیریٹ کے قریب پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 97 کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کے قیام کا حکم دیتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر اس کی سماعت کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پولیس اور منہاج القرآن کے کارکنوں کے درمیان یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے منہاج القرآن سیکریٹیریٹ اور طاہر القادری کے گھر کے ارد گرد لگی حفاظتی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی

اس موقعے پر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا تھا کہ سیکریٹیریٹ کے اطراف میں حفاظتی رکاوٹیں چار سال پہلے ہائی کورٹ کے حکم پر لگائی گئی تھیں اور حکومت اگر چاہتی تو بات چیت کر کے معاملہ حل کر سکتی تھی۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ انھیں حکومت نے فوج کی حمایت کرنے کی پاداش میں سزا دی ہے۔

طاہر القادری نے کہا کہ پولیس ان کے اہل خانہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ طاہر القادری کے مطابق وہ وزیراعلیٰ شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرائیں گے۔

اس واقعے کے پیشِ نظر حزبِ مخالف کے چند سیاسی رہنماؤں نے میاں شہباز شریف کے استعفے اور چند سینیئر پولیس اہلکاروں کی برطرفی کے مطالبے کیے تھے۔

وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ اگر کوئی بھی اس سانحے کی تفتیش کے لیے بنائے گئے جوڈیشل کمیشن سے مطمئن نہیں تو وہ سپریم کورٹ سے کمیشن بنانے یا ازخود نوٹس لینے کی درخواست کر سکتا ہے اور دونوں صورتوں میں ہم اسے خیر باد کہیں گے۔

اسی بارے میں