شہباز کی پرواز کب تک؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کئی حاسد کہتے ہیں کہ چھوٹا بھائی آمادہ نہیں تو بڑے بھائی کو ہی استعفیٰ مانگ کر فاروقی مثال قائم کرنی چاہیے

بھلا شہباز شریف وزارتِ اعلیٰٰ سے استعفیٰ کیوں دیں؟

کیا انھوں نے دس سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد متاثرین کی تالیفِ قلب کے لیے ازحد پشیمانی کا اظہار نہیں کیا اور کسی بھی انکوائری کے نتائج آنے سے پہلے پہلے اپنے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ، سیکریٹری ڈاکٹر توقیر کو برطرف اور اعلیٰٰ پولیس افسروں کو لائن حاضر نہیں کردیا اور یہ تک نہیں کہہ دیا کہ اگر ثابت ہوجائے کہ سب کچھ ان کے براہِ راست حکم پر ہوا تو فوراً استعفیٰ دے دیں گے۔

اگر پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کے استعفے کے مطالبے کی بنیاد محض ایک دن میں درجن بھر افراد کی ہلاکت ہے تو پھر تو سندھ کے وزیرِ اعلیٰ کو کراچی میں روزانہ آٹھ تا پندرہ افراد کی ہلاکت پر ہر شام استعفیٰ جمع کرانا چاہیے۔

کئی حاسد کہتے ہیں کہ چھوٹا بھائی آمادہ نہیں تو بڑے بھائی کو ہی استعفیٰ مانگ کر فاروقی مثال قائم کرنی چاہیے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ لاہور میں جو لوگ مرے ان میں کوئی بھی حکیم محمد سعید کے پائے کی شخصیت نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ شہباز شریف کا نام لیاقت جتوئی نہیں۔ تیسری بات یہ ہے کہ یہ اتفاق انڈسٹریز ہے نفاق انڈسٹریز نہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس وزیرِ اعلیٰ کو ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوا کہ اس کی پولیس نے آٹھ بندے پھڑکا دیے ایسے معصوم سے استعفے کا مطالبہ کچھ غیر اخلاقی سا لگتا ہے۔ یہاں تو کوئی بندہ ادھار واپس نہیں کرتا اور آپ خون پسینے سے کمایا عہدہ واپس کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ قربان جاؤں اس فرمائش پر۔

اب دیکھیے شہباز شریف کے استعفے کا مطالبہ کون کررہا ہے؟ شیخ رشید احمد جن کی عوامی مسلم لیگ جس کے حامی ایک سالم تانگے میں پورے آجاتے ہیں۔ پرویز الٰہی جنہوں نے اپنے صاحبزادے مونس الٰہی پر پابندی لگائے رکھی کہ جب تک میں وزیرِ اعلیٰ ہوں بینک آف پنجاب سمیت کسی مالیاتی ادارے کے سامنے سےگذرنا بھی نہیں۔ چوہدری شجاعت حسین جنہوں نے لال مسجد اسلام آباد پر حملے کے فوراً بعد مشرف حکومت کے استعفے کا مطالبہ کردیا۔ تحریکِ انصاف جس کی خیبر پختون خوا حکومت گذشتہ برس طالبان کے ہاتھوں ڈیرہ اسماعیل خان جیل سے ڈھائی سو قیدیوں کے فرار کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری مستعفی ہوگئی۔

اس بات سے کون قانون پسند شہری منکر ہے کہ پاکستان کے کسی بھی شہر بالخصوص لاہور میں کوئی سڑک یا گلی نوگو ایریا نہیں ہونی چاہیے۔ رائے ونڈ پیلس کے دروازے ہر سائیل کے لیے دن رات کھلے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن میں شریف برادران کے پرانے گھر کی گھنٹی بجا کر کوئی بھی راہ گیر پانی مانگ سکتا ہے۔ حکمران خاندان کے کسی بھی فرد کو صرف سادی کار میں ایک مسلح پولیس والے کے ساتھ سفر کرنے کی ہی اجازت ہے۔

خود خادمِ پنجاب کا ایمان ِ کامل ہے کہ زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لیے پنجاب پولیس کے ایلیٹ کمانڈوز کو سختی سے کہا گیا ہے کہ وہ ماضی کی طرح پروٹوکول ڈیوٹیوں پر وقت ضائع کرنے کے بجائے خود کو پیشہ ورانہ تندہی، ایمانداری اور ہمدردی کے ساتھ عوام کے جانی و مالی تحفظ کے لیے وقف سمجھیں۔ تو پھر طاہر القادری کیا آسمان سے اترے ہیں کہ ان کے گھر اور پارٹی دفتر کو سیسہ پلایا قلعہ بنانے اور محافظوں کی فوج رکھنے کی اجازت ہو؟

ٹھیک ہے لاہور چھاؤنی میں ہر سو دو سو گز کے بعد ایک عرصے سے کسی عدالتی اجازت کے بغیر رکاوٹیں کھڑی ہیں اور کوئی بھی شہری بنا شناخت کینٹ کی کسی سڑک پر مٹر گشتی نہیں کرسکتا۔ یہ بھی مان لیتے ہیں کہ کوئی پرندہ کسی کالعدم تنظیم کے ظاہری و پوشیدہ مراکز کے اوپر سے پر پھیلا کر نہیں گذر سکتا۔ مگر یہ تو نیشنل سکیورٹی کے معاملات ہیں۔ انہیں جواز بنا کر ہر قادری پادری اپنی من مانی نہیں کرسکتا۔

ہاں شہباز شریف کو استعفیٰ دینا چاہیے کیونکہ پولیس نے ان کا حکم نہیں مانا۔ بقولِ خود انھوں نے رات گئے ہی ہدایات جاری کردی تھیں کہ تجاوزات ہٹانے کا آپریشن معطل کردیا جائے۔ اس کا مطلب ہے کہ یا تو اوپر کے احکامات بروقت نیچے تک نہیں پہنچے یا کوئی آسیبِ اعلیٰ وزیرِ اعلیٰ سے بھی بڑا خادمِ اعلیٰ ہے جس نے واضح احکامات کے باوجود پولیس کارروائی جاری رکھنے کے لیے کہا۔

وجہ جو بھی ہو ایک بے خبر و بے بس وزیرِ اعلیٰ کسی بھی باخبر و بااختیار وزیرِ اعلیٰ سے زیادہ نقصان دہ ہے اور وہ بھی آج کے پاکستان میں۔ مثال کے طور پر دیکھیے بلوچستان کے ڈاکٹر عبدالمالک، خیبر پختون خوا کے پرویز خٹک اور سندھ کے سائیں قائم علی شاہ۔ اور بھی نام لیے جاسکتے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ پاکستان میں فی الحال چار ہی وزرائے اعلیٰ ہیں۔

اسی بارے میں