شمالی وزیرستان کے متاثرین کی مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماضی کی نسبت اس مرتبہ متاثرین کے لیے حکومت کی جانب سے مناسب انتظامات دیکھنے کو نہیں مل رہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں تین لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود بھی متاثرین کے لیے کوئی قابل ذکر انتظامات نظر نہیں آتے ہیں۔

حکومتی رہنماؤں کی جانب ٹی وی چینلز پر متاثرین کے لیے روزانہ کی بنیاد پر امداد دینے کے اعلانات اور دعوے تو کیے جا رہے لیکن تاحال گراؤنڈ پر کچھ نظر نہیں آ رہا۔

شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کےلیے نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر بکاخیل کے علاقے میں صرف ایک پناہ گزین کیمپ قائم کیا گیا ہے لیکن بنیادی سہولیات کے فقدان اور دور دراز علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے متاثرین وہاں جانے سے گریز کر رہے ہیں۔

خود حکومت نے بھی تصدیق کی ہے کہ متاثرین کیمپ میں اب تک صرف سو کے قریب افراد نے پناہ لی ہے جس سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ وہاں جانے میں مقامی افراد کتنی دلچسپی رکھتے ہیں۔

بعض حکومتی اہلکار یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ وزیرستان کے لوگ اپنی روایات کے باعث متاثرین کیمپوں میں رہنا پسند نہیں کرتے تاہم وزیرستان کے صحافیوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور افسران جان چھڑانے کےلیے ایسی بے بنیاد باتیں پھیلا رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

انھوں نے کہا کہ جب کیمپوں میں پردے کا معقول انتظام موجود ہو اور دیگر بنیادی سہولیات بھی میسر ہوں تو ایسی صورتحال میں مشکلات میں گھرے ہوئے افراد بے وقوف نہیں کہ کرائے کے مکان میں رہیں یا رشتہ داروں کے ہاں پناہ لینے کو ترجیح دیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس دن شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا اعلان کیا گیا اس وقت تک بکاخیل متاثرین کیمپ میں بجلی اور پانی جیسے بنیادی سہولیات کا انتظام نہیں کیا گیا تھا اور اس بات کی تصدیق کمشنر بنوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کی تھی۔

اس سے حکومت کی غیر سنجیدگی کا اندازہ بھی باآسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں گھر بار چھوڑنے والے وزیرستانوں کے مشکلات کے حل میں کس حد تک دلچسپی رکھتی ہے۔

ایسے میں وفاقی حکومت، پنجاب اور سندھ حکومت کی طرف سے متاثرین کو خیبر پختونخوا تک محدود رکھنے کے فیصلے سے متاثرین کی مایوسی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

وفاق، سندھ اور پنچاب کی حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو ان کے علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جائےگی اور اس سلسلے میں بعض خاندانوں کو ٹیکسلا کے مقام پر روک کر انھیں واپس خیبر پختونخوا کی طرف بھیجا بھی جا چکا ہے۔

جس طرح شمالی وزیرستان کے باشندوں کو پہلے چار دن کرفیو کے دوران گھر کے اندر محصور رکھا گیا پھر جب انھیں علاقے سے نکل جانے کی اجازت دی گئی تو اس وقت انھیں گاڑیاں نہیں مل رہی تھیں۔ کئی خاندانوں نے پیدل 18 سے 20 گھنٹوں کی مسافت طے کی اور خواتین، بچوں اور مال مویشی سمیت بنوں پہنچے۔ راستوں میں بھوک پیاس اور دیگر مشکلات کے باعث اب تک پانچ بچوں کی ہلاکت اطلاعات بھی ہیں۔

اس کے علاوہ بنوں میں حکومت کی طرف سے رہائش کے انتظامات نہ ہونے کے سبب کئی خاندانوں نے یہ سوچ کر پنجاب اور سندھ کی جانب رخ کیا کہ وہاں رشتہ داروں کے ہاں پناہ لے لیں گے لیکن وہاں سے بھی انھیں سختی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب وفاقی حکومت، پنجاب اور سندھ کی حکومت نے انھیں اپنے علاقوں میں داخل ہونے کی بجائے واپس خیبر پختونخوا کی جانب بھیج دیا۔

ایسی صورت حال میں اگر مصیبت کے مارے ہوئے اور حکمرانوں کے سخت رویّے کے شکار ایسے متاثرین کو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے استعمال کرنے کا خدشہ بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں اس سے پہلے بھی قبائلی علاقوں اور خیبر پختون خوا کے مالاکنڈ ڈویژن میں فوجی آپریشن کیے جا چکے ہیں لیکن ان کےلیے پہلے سے بہتر انتظامات موجود تھے۔

مالاکنڈ اور سوات میں 2009 میں ہونے والی کاروائی کے باعث 25 لاکھ کے قریب افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے تھے جو ملک کی تاریخ کی ریکارڈ نقل مکانی تھی لیکن اس کے لیے پہلے سے متاثرین کیمپ بنائے گئے تھے اور دیگر انتظامات بھی موجود تھے جس کی وجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں رہا۔

اگر حکمرانوں کی طرف سے وزیرستان کے متاثرین کے ساتھ یہ سلوک جاری رکھا گیا تو شدت پسندی سے متاثرہ افراد جو پہلے ہی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے ناراض نظر آتے ہیں ان کی شکایات میں مزید اضافہ ہو گا۔

اسی بارے میں