ضربِ عضب: 25 شدت پسند ہلاک، پناہ گزینوں کو مشکلات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام کے مطابق اب تک تقریباً سوا چار لاکھ افراد نقل مکانی کر کے بنوں کے راستے مختلف علاقوں میں پہنچ گئے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران آج میر علی کے قریب فضائی حملوں اور جھرپوں میں 25 شدت پسند اور سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان کے مطابق میر علی کے قریب فضائی حملوں میں شدت پسندوں کے آٹھ ٹھکانے تباہ کیے گئے ہیں اور ان حملوں میں 15 شدت پسند مارے گئے ہیں۔ اسی طرح کچھ شدت پسندوں نے فرار ہونے کی کوشش کی جن پر حملے کیے گئے۔ شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں دس شدت پسند اور دو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے دوران سرنگوں کی نشاندہی بھی ہوئی ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ علاقے میں کرفیو میں صبح چھ بجے سے شام چار بجے تک نرمی کی گئی تاکہ مقامی لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ متاثرین کے لیے چار مقامات پر کیمپ قائم ہیں جہاں انھیں سہولیات اور امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ادھر ان علاقوں سے متاثرہ افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حکام کے مطابق اب تک تقریباً سوا چار لاکھ افراد نقل مکانی کر کے بنوں کے راستے مختلف علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے افراد نے بتایا کہ میران شاہ اور میر علی جیسے خالی ہو چکے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کی جانب سے یہ اعلان کیے جاتے رہے ہیں کہ لوگ اپنے گھروں سے محفوظ مقامات کی جانب چلے جائیں اور علاقہ خالی کر دیں۔ فاٹا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم کے مطابق سوا چار لاکھ افراد اب تک نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ مزید ابھی راستے میں ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے لوگوں نے بتایا کہ کھجوری چیک پوسٹ سے سیدگئی چیک پوسٹ تک 13 کلومیٹر کا فاصلہ 18 سے 20 گھنٹوں میں طے کر رہے ہیں۔

نقل مکانی کرنے والوں میں تقریباً پونے دو لاکھ بچے اور ایک لاکھ سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متاثرین کے لیے چار مقامات پر کیمپ قائم ہیں جہاں انھیں سہولیات اور امداد فراہم کی جا رہی ہے: آئی ایس پی آر

مقامی صحافی نور رحمان میران شاہ سے نقل مکانی کر کے کل رات بنوں شہر پہنچے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ راستے میں لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ افراد کو رہائش کے حصول میں سخت مشکلات کا سامنا ہے جبکہ حکومت کے قائم کردہ کیمپس میں حکام کے مطابق صرف اٹھارہ خاندان آئے ہیں۔

میرانشاہ اور میر علی سے بنوں پہنچنے والے افراد کا کہنا تھا کہ راستے میں گاڑیوں کے کرائے بڑھائے گئے ہیں جبکہ بنوں شہر میں مکانوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

متاثرہ افراد بنوں کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، کرک، پشاور اور دیگر علاقوں کی طرف بھی پہنچے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ کراچی اور راولپنڈی کی جانب جائیں گے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ کرفیو کے نفاذ کے بعد سکیورٹی فورسز شدت پسندوں کے خلاف زمینی کارروائی شروع کریں گے۔ مقامی صحافی نور رحمان نے بتایا کہ اس وقت سکیورٹی فورسز کی زیادہ توجہ میرانشاہ اور میر علی کی طرف ہے۔

پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں دس روز پہلے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تھا جس میں سکیورٹی فورسز کے مطابق شدت پسندوں کا بھاری جانی نقصان ہوا ہے لیکن دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان حملوں میں ان کا زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسی بارے میں