طاہر القادری کا ’ڈرامائی‘ سفر لاہور میں ختم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عوامی تحریک کے ہزاروں کارکن طاہر القادری کے استقبال کے لیے موجود تھے

’انقلاب‘ کے نعرے کے ساتھ وطن لوٹنے والے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری ایک طویل اور ڈرامائی سفر کے بعد پیر کی شام لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن کی اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں۔

کینیڈا، لندن، دبئی اور راولپنڈی سے ہوتا ہوا ان کا یہ طویل اور کئی ڈرامائی مراحل پر مشتمل سفر لاہور میں اختتام پذیر ہوا۔

اپنے سفر کے آخری مرحلے میں طاہر القادری امارات فضائی کمپنی کی ایک پرواز کے ذریعے جب دبئی سے اسلام آباد پہنچے تو ان کے طیارے کو بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کی اجازت نہیں مل سکی اور جہاز کو کچھ دیر دارالحکومت کی فضا میں چکر لگانے کے بعد لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کا حکم ملا۔

یہ وہ ہی ایئرپورٹ ہے جہاں سات سال کی جلا وطنی کے بعد موجودہ وزیراعظم نواز شریف مشرف کے دور میں لندن سے نجی ایئر لائن کے ذریعے پہنچے تھے تو جگہ جگہ پولیس ناکے تھے اور ن لیگ کے کارکنوں کے ساتھ تقرییاً ایسا ہی سلوک دیکھنے میں آیا جسیا کہ تئیس جون دو ہزار چودہ میں دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم اس وقت بھی ایک ڈرامائی صورتحال تھی۔ یہ ڈرامائی سفر آخر میں جدہ پر اختتام پذیر ہوا جب نواز شریف دوبارہ جلاوطن ہو کر لندن سے راولپنڈی اور راولپنڈی سے جدہ پہنچے۔

طاہر القادری کی آمد پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں زبردست حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور ہوائی اڈے کو جانے والے تمام راستوں کو ’سیل‘ کر دیا گیا تھا اور ہوائی اڈہ مکمل طور پر جڑواں شہروں سے کٹ گیا تھا۔ سڑکوں کو کنٹینر لگا لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔

راولپنڈی میں موجود پاکستان عوامی تحریک کے ہزاروں کارکنوں کی جن میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی پولیس سے کئی جگہوں پر جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کی بھاری نفری نے جو طاہر القادری کے سیاسی کارکنوں کو ہوائی اڈے سے دور رکھنے کے لیے تعینات کی گئی تھی عوامی تحریک کے کارکنوں پر وقفے وقفے سے آنسو گیس کی شیلنگ کرتی رہی۔ اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں پولیس نے اپنے سو اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعوی کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کارکنان میں بڑی تعداد میں خواتین بھی شامل تھیں

طاہرالقادری نے ہوائی جہاز کے لاہور پہنچنے پر طیارے سے باہر آنے سے انکار کردیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ وہ صرف فوج کی حفاظت میں طیارے سے باہر آئیں گے۔ کئی گھنٹوں تک طیارے میں رہنے کے بعد آخر کار پیر کی شام میں وہ گورنر پنجاب محمد سرور اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے سربراہ چوہدری پرویز الہی کے ہمراہ طیارے سے باہر آئے۔

جناح ہسپتال لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں علامہ ’طاہر القادری نے کہا کہ وہ انتقام لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرا پورا قافلہ اور جہاز حکومت نے ہائی جیک کیا۔‘

انھوں نے پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کو شدید تنقیدکا نشانہ بنایا اور نواز شریف کو ہٹلر قرار دیا۔ طاہرلاقادری نے کہا کہ کہ ان کی آمد کے بعد انقلاب کی تحریک کا آغاز ہو گا۔

لاہور کے ہوائی اڈے کے باہر بھی پاکستان عوام تحریک کے چند ہزار کارکن موجود تھے جن میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا تھا۔ طاہر القادری کے باہر آنے پر ان کارکنوں نے خوشی سے رقص کیا اور نعرے بازی کی۔

ہوائی اڈے سے طاہر القادری سیدھے جناح ہپستال کی طرف روانہ ہوئے جہاں گذشتہ دنوں پولیس کی کارروائی میں زخمی ہونے والے سو کے قریب عوامی تحریک کے کارکن زیر علاج ہیں۔

ان کارکنوں کی عیادت کرنے کے بعد طاہر القادری ماڈل ٹاون میں واقع اپنی رہائش گاہ پہنچے۔

بی بی سی رپورٹنگ: ارم عباسی، شمائلہ جعفری، شہزاد ملک اور حمیرا کنول