وزیرستان: مارا کون جا رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بنوں پہنچنے والی گاڑیوں پرگنجائش سے کہیں زیادہ سامان اور لوگ سوار ہیں

صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں کو جانے والی دُھول سے اٹی اور دھوپ میں تپتی ہوئی سڑک شمالی وزیرستان سے آنے والی ان گاڑیوں سے بھری ہوئی ہے جن پرگنجائش سے کہیں زیادہ سامان اور لوگ سوار ہیں۔

گذشتہ چند دنوں سے ہزارہا گھرانے طالبان کے ٹھکانوں پر پاکستانی فوج کی بمباری سے بچنے کے لیے شمالی وزیرستان سے نکل چکے ہیں۔

ان لوگوں میں کئی ایسے ہیں جنھیں بنوں میں داخلے سے پہلے شدیدگرمی میں بھوکوں پیاسوں کئی گھنٹے تک شہر سے باہر قائم مرکز پر شناختی عمل سے بھی گزرنا پڑ رہا ہے۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بنوں پہنچنے والے بے گھر افراد کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

میران شاہ سے بنوں پہنچنے والے غلام رسول کہتے ہیں: ’میرے گھر کے افراد ابھی تک وہاں پھنسے ہوئے ہیں۔ میرے کچھ رشتہ داروں کو یہاں آنے کے لیے میلوں پیدل چلنا پڑا ہے۔‘

غلام رسول کو پاکستانی فوج پر بہت غصہ ہے کہ اس نے یہ حملے کیوں شروع کیے: ’فوج اپنے میزائلوں سے ہمارے بچوں پر حملے کر رہی ہے۔ فوج کو کہنے دیں کہ وہ ہماری مدد کر رہی ہے، لیکن ہمیں ان کی مدد نہیں چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption میرے گھر کے افراد ابھی تک وہاں پھنسے ہوئے ہیں: غلام رسول

فوج ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے وہ لوگ یہ کارروائی بہت احتیاط سے کر رہے ہیں اور اس کا مقصد صرف عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا ہے تا کہ ان ٹھکانوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تباہ کیا جا سکے۔‘

لیکن حالیہ فوجی کارروائیوں سے متاثر ہونے والے لوگوں میں بہت سے ایسے ہیں جنھوں نے ہمیں بتایا کہ ان کے خیال میں حکومت نے ان سے دھوکہ کیا اور آپریشن شروع ہونے سے پہلے عسکریت پسندوں کو علاقے سے نکل جانے کی اجازت دے دی تھی۔

مولانا گل رمضان کہتے ہیں کہ ’بمباری شروع ہونے سے پہلے عسکریت پسند میر علی اور میران شاہ سے نکل چکے تھے۔‘

صرف ایک ہفتہ پہلے تک مولانا گل رمضان شمالی وزیرستان میں ایک امن جرگے کے رکن تھے جو فوج اور طالبان کے درمیان رابطے کا کام کر رہا تھا۔ لیکن آج وہ بنوں میں اپنے ایک دوست کے گھر پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

مولانا گل رمضان کہتے ہیں کہ آپریشن سے فوج کے خلاف نفرت کو ہوا مل رہی ہے: ’ اب اس فوجی کارروائی کا کیا فائدہ ہے؟ یہ کسے مارنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ طالبان جنگجؤوں کو، ازبکوں کو یا چیچنوں کو؟ زیادہ تر عسکریت پسند تو کافی عرصہ پہلے ہی علاقے سے نکل چکے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption زیادہ تر عسکریت پسند تو کب کے علاقے سے نکل چکے ہیں: مولانا گل رمضان

دنیا دس سال سے سے کہہ رہی ہے کہ عالمی جہادیوں کا اصل ٹھکانہ شمالی وزیرستان کا علاقہ ہے اور اس حوالے سے پاکستانی فوج پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ اس علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کو جان بوجھ کر برداشت کرتی رہی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ شمالی وزیرستان میں عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ اندازے کے مطابق یہاں کی آبادی ساڑھے پانچ لاکھ سے لیکر سات لاکھ تک ہے۔

میر علی کے رہائشی خالد احمد کا کہنا ہے: ’مجھے نہ تو طالبان کی پرواہ ہے اور نہ ہی فوج کی۔ عام شہری کی حیثیت سے ہم تو دونوں طرف سے کُچلے جا رہے ہیں۔‘

جہاں تک حکومت کا تعلق ہے، اس نے بنوں کے قریب بکا خیل کے مقام پر ایک ریلیف کیمپ بنایا ہے۔ اگرچہ صحافیوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے، لیکن حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ خوراک، پانی، نکاسیِ آب جیسی بنیادی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے عام آبادی سے دور اِس کیمپ میں صرف چندگھرانے ہی قیام کر رہے ہیں۔‘

بنوں پہنچنے والے بہت سے لوگوں نے ہمیں بتایا کہ وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے پاس جائیں گے۔ اس کے علاوہ کچھ اپنے لیے کرائے پر مکان لیں گے، جبکہ باقی مہاجرین کو کوئی خبر نہیں کہ وہ کہاں جائیں گے اور وہاں انھیں کتنا عرصہ رکنا پڑے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عسکریت پسندوں کےگڑھ سے نقل مکانی کرنے والوں میں تقریباً پانچ سو عیسائی بھی شامل ہیں

شمالی وزیرستان سے آنے والے ہزارہا بچوں میں کئی ایک ایسے ہی جنھیں پولیو جیسی بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکے وغیرہ بھی نہیں لگے ہوئے کیونکہ طالبان نے اس پر پابندی لگائی ہوئی تھی۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ ان بچوں کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کی وجہ سے پولیو کا مرض پھیل سکتا ہے، جس سے پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ کو روکنے کی جدوجہد مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔

بچوں کی صحت پر کام کرنے والے سرگرم اداروں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں حالیہ بحران ایسے بچوں کو حفاظتی قطرے پلانے اور ٹیکے لگانے کا ایک اچھا موقع ثابت ہو سکتا ہے جو ابھی تک ان اداروں کی پہنچ سے باہر تھے۔

اور ایسا ہو بھی رہا ہے۔ بنوں پہنچنے والے بچوں کی ایک بڑی تعداد کو پہلی مرتبہ پولیو کے قطرے نصیب ہو رہے ہیں۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ پولیو سے مکمل بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو ایک سال تک ہر کچھ ماہ بعد یہ قطرے پلائے جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بےگھر ہونے والے لاکھوں لوگوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ سر چھپانے کی جگہ اور امداد کا ہے

ایسا کرنا بہت مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ بچوں کے ایک شہر سے دوسرے شہر چلے جانے کی صورت میں اس بات کا امکان کم ہے کہ صحت کے اداروں کے اہل کار تمام بےگھر بچوں کا ریکارڈ محفوظ رکھ سکیں۔

فوجی کارروائی اپنے ابتدائی دنوں میں ہے اور ابھی تک شمالی وزیرستان میں متوقع زمینی کارروائیاں شروع نہیں ہوئی ہیں۔

ابھی تک فوجی آپریشن کے بارے میں پائے جانے والی رائے عامہ پر فوج کی گرفت بہت مضبوط ہے اور لگتا ہے کہ فوج کو وسیع سیاسی اور عوامی حمایت حاصل ہے۔

لیکن اگر لڑائی طویل ہو جاتی ہے اور اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، تو عوامی اور سیاسی حمایت تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔

فی الوقت شمالی وزیرستان سے بےگھر ہونے والے ہزاروں لاکھوں لوگوں کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ سر چھپانے کی جگہ اور امداد کا ہے تا کہ وہ اپنے یہ دن کسی قدر عزت سے گزار سکیں۔

اسی بارے میں