بدھا کے مجسمے کی ’ٹوٹ پھوٹ‘

بدھا کا مجسمہ تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک صدی سے زیادہ قدیم لاہور کے عجائب گھر گوتم بدھ کا ایک مجسمہ بھی ہے جس کا تعلق دوسری صدی قبلِ مسیح کے گندھارا دور سے بتایا جاتا ہے

ایک صدی سے زیادہ قدیم لاہور کے عجائب گھر گوتم بدھ کا ایک مجسمہ بھی ہے جس کا تعلق دوسری صدی قبلِ مسیح کے گندھارا دور سے بتایا جاتا ہے اور یہ مجسمہ شکست و ریخت کا شکار ہے۔

میوزیم میں ایسا کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی ایسا ریکارڈ رکھنے کا طریقہ کہ جس سے کسی نوادر میں ہونے والی کسی تبدیلی کہ بارے میں اندازہ لگایا جا سکے۔

میوزیم میں موجود عجائبات میں بدھا کے مجسمے کو خصوصی اہمیت اس لیے حاصل ہے کہ یہ روحانی سکون پانے کے لیے ان کی اُس تپسیا کی تصویر ہے جو کے چھ برس تک جاری رہی۔

اخبارات میں چھپنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجسمہ صفائی کے دوران گر گیا تھا جس کے نتیجے میں مجسمے کا ہاتھ اور ٹوٹ گئیں۔ مزید یہ کہ اس ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کا کام ماہرین سے نہیں کرایا گیا جس سے مجسمہ اور بد نما ہوگیا ہے۔

لاہور میوزیم کی ڈائریکٹر سمیرا صمد ان خبروں کو مسترد کرتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹوٹ پھوٹ نئی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مجسمے کی مکمل تصویر

’یہ مجسمہ تو برس ہا برس سے ایسا ہی ہے۔ جب میری یہاں تعیناتی ہوئی یہ ایسا ہی تھا۔ ہم نے اسے ہاتھ ہی نہیں لگایا۔ نہ اٹھایا اور نہ ہی کسی نمائش پر باہر بھیجا۔ ہمارے بہت سے نواردات کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ٹوٹا پھوٹا ہوتا ہے۔ اکثر یا تو کھدائی کے دوران انھیں نقصان پہنچتا ہے یا پھر عجائب گھر میں پڑے پڑے‘۔

لاہور کے عجائب گھر میں نوادرات کی کیٹلاگز بنانے کا کوئی بندوبست نہیں۔ اس لیے یہ ریکارڈ تو موجود نہیں کہ کس زمانے میں کس چیز کی کیا صورتحال رہی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کیا کیا تبدیلیاں آتی رہیں۔ تاہم ایسے نادر مجسمے کی شکست و ریخت پر کسی کا دھیان نہ جانا قدرے عجیب محسوس ہوتا ہے۔

پچھلے دس پندرہ برسوں میں لاہور میوزیم کے ڈائریکٹر بار بار تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ اور زیادہ تر اس عہدے پر بیوروکریٹس کی تقرریاں کی جاتی رہیں۔ لیکن آثار قدیمہ کے ماہرین اس ادارے سے ناپید ہوچکے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ اکثر شعبوں میں باقاعدہ تربیت یافتہ لوگوں کی کمی ہو چکی ہے۔

چوبیس سال تک لاہور میوزیم کے ڈائریکٹر رہنے والے پاکستان کے نامور آرکیالوجسٹ سیف الرحمان ڈارکہتے ہیں ’میوزیم جیسے پروفیشنل اداروں کو تو ٹیکنکل لوگ پیدا کرنے پڑتے ہیں۔ اس کے لیے منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے۔ بروقت ان کی تربیت کروانی پڑتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یہ نہیں کہ اس ملک میں اہل لوگوں کی کمی ہے۔ بس انھیں ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے حکومت کی نیت کا ٹھیک ہونا ضروری ہے لیکن لاہور میوزیم کے ساتھ اس حوالے سے بہت زیادتی ہورہی ہے‘۔

روایتوں کے مطابق فاسٹنگ بدھا اس دوران بنایا گیا جب بدھا نے نروان حاصل کرنے کے لیے چھ سال کا تک کھانا پینا چھوڑ دیا تھا اسی لیے اس مجسمے کو فاسٹنگ بدھا کہا جاتا ہے۔

اس مجسمے کو آثار قدیمہ کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان کی شناخت سمجھا جاتا ہے اور مختلف ملکوں میں بسنے والے بدھ مت کے پیروکار اسے انتہائی متبرک سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لاہور کا میوزیم ایک صدی سے زیادہ قدیم ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس مجسمے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہو سکتا ہے؟ کیا اس کی مرمت کی جاسکتی ہے؟ میوزیم کی ڈائریکٹر کہتی ہیں ’یہ برس ہا برس سے ایسا ہے اور یہ ایسا ہی رہے گا۔ کیونکہ پتھر خراب تو نہیں ہوتا۔ یہ کوئی پینٹنگ یا کپڑا تو نہیں۔ اس لیے یہ ایسا ہی رہے گا۔ ہم اسے ہاتھ بھی نہیں لگائیں گے۔ ہم اسے ایسے ہی رہنے دیں گے کیونکہ ہمیں یہی مشورہ دیا گیا ہے‘۔

فاسٹنگ بدھا کو انسانی تاریخ کا ایک اہم باب سمجھا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں تو تاریخ بھی اپنی پسند کی ہی زندہ رکھنے کی روایت ہے اس لیے فاسٹنگ بدھا کی قدروقمیت تو پتھر کے ایک بت سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں