دلیپ کمار کا مکان خستہ حالی کا شکار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فی الحال اس گھر کا استعمال گودام کے طور پر کیا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار کا بھارتی سینما سے گہرا تعلق ہے۔

قصہ خوانی بازار کے خداداد محلے میں بالی وڈ کے جانے مانے اداکار دلیپ کمار کا 11 اگست 1922 کو جنم ہوا تھا۔ لیکن اب اس مکان کی خیر خبر لینے والا وہاں کوئی نہیں ہے اور یہ مکان کبھی بھی گر سکتا ہے۔

دلیپ کمار کے اس مکان کی چھت اتنی خراب حالت میں ہے کہ یہ کبھی بھی گر سکتی ہے۔ مکان میں لکڑی کا بے حد نفیس کام کیا گیا ہے، جس پر وقت کی گردش نے زیادہ اثر نہیں ڈالا۔

فی الحال اس مکان کا استعمال گودام کے طور پر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان میں عوامی نیشنل پارٹی کی گذشتہ حکومت نے اس مکان کو خرید کر اسے تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن مکان کے مالکانہ حقوق کے حوالے سے تنازعے کی وجہ سے بات آگے بڑھ نہیں سکی۔

اب پشاور کے کچھ لوگ کوشش کر رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف پارٹی کی موجودہ حکومت اس جانب توجہ دے اور مکان کو تاریخی ورثے کے طور پر محفوظ کیا جائے۔

پشاور میں تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے والی غیر سرکاری ادارے تنظیم کلچرل ہیریٹیج فورم کے شکیل وحید اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً دس سال پہلے تک اس مکان کی حالت بہت بہتر تھی لیکن اب اس کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔

شکیل خان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس جانب توجہ نہ دی تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکان خریدنے کے لیے چندہ مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

’ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اس مکان کو خرید کر اس کی مرمت کرے اور یہاں دلیپ کمار کی تصاویر، ان کی فلموں کے پوسٹر اور ان کے متعلق چیزوں کو رکھا جائے۔‘

دلیپ کمار کے علاوہ پرتھوی راج کپور اور شاہ رخ خان کے والد تاج محمد خان کا جنم بھی اسی قصہ خوانی بازار میں ہوا تھا جبکہ بالی وڈ اداکار ونود کھنہ کی پیدائش پشاور میں ہوئی تھی۔

دلیپ کمار تقسیم کے بعد 1988 میں پہلی بار اپنے پیدائشی مکان آئے تھے لیکن اس وقت اس کی حالت بہتر تھی۔

اسی بارے میں