پسند کی شادی پر پوتی اور اس کے شوہر کا قتل

Image caption پاکستان میں پسند کی شادی پر قتل کے واقعات کے خلاف کئی بار احتجاج ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پسند کی شادی کرنے پر پوتی اور اس کے شوہر کو قتل کرنے کےالزام میں ایک ادھیڑ عمر شخص کو چھ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

پولیس نے مقتولہ کے دو چچاؤں کا بھی جسمانی ریمانڈ دیا ہے جب کہ اس کی ماں کو عدالتی تحویل بھجوا دیا۔

پولیس کے مطابق پنجاب کے ایک قصبے ڈسکہ میں جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب 19 سالہ مافیہ اور اس کے 21 سالہ شوہر سجاد احمد کو سر پر تیز دھار آلے کے وار کر کے قتل کیا گیا۔

تھانہ ستراہ کے ڈیوٹی افسر احسان اللہ نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مقتولہ مافیہ نے 18 جون کو گھر چھوڑ کر اپنی مرضی سے سجاد احمد سے شادی کر لی تھی جس کا مافیا کے اہلخانہ کو رنج تھا۔

پولیس کے مطابق مافیہ کے دادا غلام رسول اور ماں بشیراں بی بی سمیت دیگر اہلخانہ اسے جھانسہ دیا کہ وہ ان دونوں کی شادی کو تسلیم کر لیں گے اور دونوں کو عزت سے رخصت کریں گے۔ مافیہ اور اس کا شوہر ان کےجھانسے میں آ کر گھر چلے گئے جہاں ملزمان نے دنوں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے اور ان کے سر پر ٹوکے کے وار کر کے انھیں ہلاک کر دیا۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ پولیس نے اسی رات تمام چار ملزموں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں لڑکی کا دادا غلام رسول ماں بشیراں بی بی کے علاوہ دو چچا ششماد اور اقبال بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق واردات کے وقت مقتولہ کا والد گھر میں موجود نہیں تھا۔ لڑکی کے باپ دلشاد کی چار جولائی تک ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی گئی ہے۔

ملتان کے علاقے کوٹ ادو میں بھی گذشتہ ہفتے ایک لڑکی مہرین کو اس کےاہلخانہ نے فائرنگ کرکے قتل کردیا اس لڑکی نے راولپنڈی کی ایک عدالت میں جاکر دوسرے قبیلے کے لڑکےسے اپنی پسند کی شادی کی تھی جسے لڑکی کے گھر والوں نے اپنے قبیلے کی توہین سمجھا تھا۔

ملتان کے ایک وکیل ضیا کیانی نے میڈیا کو بتایا کہ ایک پنچائیت میں لڑکی کے والدین نے اسے نقصان نہ پہنچانے کا جھوٹا حلف دیا جس پر لڑکی کو اس کے والدین کے حوالے کردیا گیا تاکہ والدین اپنی دعاؤں کے ساتھ اس کی رخصتی کرسکیں۔

ضیاکیانی ایڈووکیٹ کے مطابق جب لڑکی کو اس کے والدین کے حوالے کیا جا رہاتھا تو وہ رو رہی تھی اور چیخ چیخ کرکہہ رہی تھی کہ اسے قتل کرنے کے لیے لے جایا جا رہا ہے لیکن کسی نے اس کی نہیں سنی اور اسے قتل کر دیا گیا۔ ضیا کیانی ایڈووکیٹ نے کہا کہ لڑکی کے قتل کے مقدمے کا مدعی بھی والد ہی بن گیا ہے جب کہ مقدمے کا حقیقی مدعی، اس کا شوہر اپنی جان بچانے کے لیے روپوش ہے۔

پاکستان میں پسند کی شادی پر قتل کے واقعات اکثر سامنے آتے ہیں تاہم حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق ملک میں ایسے واقعات میں ہلاکتیں کہیں زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ اکثر واقعات منظرِعام پر نہیں آتے ہیں۔

اسی بارے میں