متاثرین کے لیے نسوار پر رعایت اور گاڑیوں پر سفید جھنڈے

Image caption بلال نامی نسوار فروش نے بتایا کہ ان کے کاروبار میں تیزی آئی ہے اگر پہلے 40پاؤ نسوار فروخت ہوتی تھی تو اب 80 پاؤ نسوار فروخت ہو رہی ہے

بنوں میں میران شاہ روڑ پر واقع وزیرستان نامی میوزک شاپ سے ’اے مسافر آجاؤ اپنے وطن، مجھے ہر دم یاد آتی ہے تیری میرے جگر‘ گیت کی آواز سنائی دے رہی تھی۔

اس کے قریب ہی چارپائیوں، ریفریجریٹر اور دیگر سامان سے لدی ایک ٹریکٹر ٹرالی جس پر سفید رنگ کا جھنڈا لگا ہے شہر میں داخل ہوتی ہے۔

میران شاہ سے یہ سامان لیکر آنے والے ڈرائیور نیک مرجان وزیر نے بتایا کہ حفاظتی اقدامات کے طور پر یہ سفید جھنڈا لگایا ہے۔

’وہاں کرفیو ہے اگر کوئی آنا چاہے تو سفید جھنڈا لگاکر آنا پڑتا ہے اگر ایسا کوئی نہ کرے تو اس پر گولی چلائی جائے گی۔ اس لیے ہم نے حفاظتی اقدامات کے طور پر سفید جھنڈا لگایا ہے۔‘

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد بنوں اور اس قریبی علاقوں میں پہنچی ہے۔ جس سے شہر کی معاشی اور معاشرتی صورتحال پر اثرات پڑنے کے امکانات بھی ہیں۔

میوزک شاپ کے مالک فقیر زمان وزیر کی دکان میں’ڈرون حملے کے عنوان سے گلوکارہ نازیہ اقبال کی سی ڈی موجود تھی تو دوسری طرف مولانا طارق جمیل کی تبلیغی سی ڈیز کا سیٹ۔‘

فقیر زمان کے مطابق ان کے کاروبار میں مزا نہیں ہے کیونکہ لوگ حالات کی وجہ سے پریشان ہیں اور اس میں وہ کہاں سے خریداری کریں گے، اب رمضان تو ہے اس لیے کاروبار میں مندی رہے گی۔

انھوں نے بتایا کہ وزیرستان کے لوگ زیادہ تر گلوکار مشرف بنگش، وحید اچکزئی، اور نازیہ اقبال کو پسند کرتے ہیں۔

Image caption کرفیو کی وجہ سے گاڑیوں پر سفید جھنڈا لگا کر آنا پڑتا ہے: نیک مرجان

اس میوزک شاپ میں کمپیوٹر پر ایک نوجوان آئی جی آئی نامی ویڈیو گیم کھیلنے میں مصروف تھے، جس میں اہلکاروں کو نشانہ بنا کر آگے بڑھتے ہوئے دیکھ کر اس کے چہرے پر خوشی کے تاثرات ابھر آتے۔

ان علاقوں میں سگریٹ کے بجائے نسوار کا استعمال عام ہے۔ کراچی تک بنوں کی نسوار فروخت ہوتی ہے ۔

بلال نامی نسوار فروش نے بتایا کہ ان کے کاروبار میں تیزی آئی ہے اگر پہلے 40پاؤ نسوار فروخت ہوتی تھی تو اب 80 پاؤ نسوار فروخت ہو رہی ہے۔

’ویسے تو نسوار 160 روپے فی کلوگرام ہے لیکن متاثرین کو ہم 10 روپے رعایت کر کے 150 روپے فی کلوگرام نسوار فروخت کرتے ہیں۔ان متاثرین کی شناخت ایسے ہوتی ہے کہ وہ مادری زبان بولتے ہیں اس کے علاوہ وہ خود بھی کہتے ہیں کہ ہم متاثرین ہیں رعایت کریں۔

بنوں شہر میں وزیراعلیٰ اکرم درانی کے دور میں ترقیاتی منصوبوں سے بھی کچھ قدر بہتری آئی۔ قدیم شہر آٹھ فصیلوں کے درمیان تھا، کچھ علاقوں میں ابھی تک ان فصیلوں کے آثار موجود ہیں۔ شہر کی ثقافتی اور سماجی خوشحالی کا اندزہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ یہاں خواتین کا پارک تھا، جو اب کئی دہائیوں سے بند ہے لیکن یہاں کسی زمانے میں کافی خواتین آتی تھیں۔

لڑکیوں اور خواتین کے لیے شاید سماجی اور ثقاقتی سرگرمیوں کی واحد جگہ ’دی پینل‘ سکول ہے۔ چرچ آف پاکستان کے زیرانتظام اس انگریزی میڈیم سکول میں سات سو طالبات زیرتعلیم ہیں جن میں وزیر قبیلے کی بھی بچیاں شامل ہیں۔

Image caption ۔۔۔وزیرستان کے لوگ زیادہ تر گلوکار مشرف بنگش، وحید اچکزئی، اور نازیہ اقبال کو پسند کرتے ہیں

پاکستان کے دیہی شہروں کے بازاروں کی طرز پر یہاں دکانیں موجود ہیں، لیکن یہاں خاندان کے ساتھ خریداری کا رواج نہیں۔سفید برقعے میں لپٹی ہوئی کچھ خواتین کپڑوں کے بازار میں نظر آتی ہیں تو مرد راشن اور عام دکانوں میں۔ شہر میں صبح سویرے کاروبار کھلتا ہے اور سورج غروب ہونے کے ساتھ بند ہوجاتا ہے، نجی ہپستال بھی قائم ہیں تو ساتھ میں ہومیو ڈاکٹر اور حکیموں کے علاوہ جادو ٹونے والے بھی اپنی دکان چلا رہے ہیں۔

راج مستری شفیع اللہ کراچی میں بھی کام کر چکے ہیں اور ایک بار انھیں گرفتار بھی کیا گیا لیکن بعد میں رہائی اس بنیاد پر ہوئی کہ انھوں نے خلیجی ریاستوں سے بے دخل کیے گئے پشتون مزدوروں اور پولیس کے درمیان مترجم کے فرائض سر انجام دیے تھے۔

جب شفقی کو بتایا کہ میرا تعلق کراچی سے ہے تو انھوں نے فوری طور پر کہا کہ’ہم کراچی سے ڈرتے ہیں اور آپ بنوں میں ڈر رہے ہیں دونوں شہروں میں فرق کیا ہے۔‘

بنوں میں اتنی زیادہ کاروباری یا تجارتی سرگرمیاں نہیں ہیں۔شفیع اللہ نے بتایا کہ آپریشن کے متاثرین ابھی تک تو مزدوری کے لیے نہیں آئے لیکن اتنا کام دستیاب نہیں ہے کیونکہ صوبے میں جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے اس کے پاس مالی وسائل دستیاب نہیں اس لیے صرف نجی تعمیراتی کام دستیاب ہیں جہاں سے یومیہ 400 روپے اجرت مل جاتی ہے۔

سپورٹس کمپلیکس میں امدادی سامان کی تقسیم کی وجہ سے پورے شہر میں ٹریفک جام رہتا ہے۔ اس کے سامنے جنرل سٹور کے مالک تجم زیب نے بتایا کہ عام متاثرین تو کیمپ سے راشن لینے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ امیر لوگ ان سے راشن خرید رہے ہیں جس وجہ سے ان کے کاروبار میں 10 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

اسی بارے میں