ضربِ عضب میں مزید 16 شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاکستان کی فوج نے شمالی وزیرستان میں 15 جون کو آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا

پاکستان کی فوج کے مطابق قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جاری ضرب عضب آپریشن کے دوران میر علی کے مقام پر فضائی حملوں میں مزید 16 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان نے فوج کے شعبہ تعلقات عامۂ کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کو ہونے والی فضائی بمباری میں 16 شدت پسند ہلاک اور ان کے چھ ٹھکانے بھی تباہ کر دیے گئے۔

پاکستانی فوج کے مطابق ان حملوں کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ کا ذخیرہ اور دھماکا خیز مواد بھی تباہ کر دیا گیا۔

’نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ‘

اس سے پہلے سنیچر کو پاکستانی فوج نے وزیرستان میں جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران میر علی میں ایک اہم کمانڈر سمیت 11 شدت پسندوں کو ہلاک اور ان کے چھ ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا عویٰ کیا تھا۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں عام شہریوں کو آپریشن سے محفوظ رکھنے کے لیے آبادی کو علاقے سے نکال لیا گیا ہے اور مسلسل اعلان کیے جا رہے ہیں کہ کسی بھی وجہ سے علاقے میں پھنسے رہ جانے والے علاقوں سے نکل جائیں۔

ادھر امریکہ نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی پاکستان کی زیرِ قیادت ہو رہی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے جمعے کو واشنگٹن میں دی جانے والی پریس بریفنگ میں بتایا تھا کہ امریکہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی حمایت کرتا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے پاکستان میں حکومت کی عملداری اور اس کا داخلی استحکام مضبوط بنانے کی کوششوں کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption امریکہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی صورتِ حال سے پوری طرح آگاہ ہے: امریکی اہلکار

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان کے مطابق شمالی وزیرستان میں جاری کارروائی کے نیتجے میں لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے افراد کی صورتِ حال سے پوری طرح آگاہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی حکومت نقل مکانی سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے بین الاقوامی رفاعی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی مشکلات کے حل کے لیے فوج اور حکومت مل کر کام کر رہے ہیں۔

جمعے کو بنوں کے دورے کے موقعے پر انھوں نے ہر خاندان کے لیے امدادی پیکیج کو بڑھا کر 20 ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس موقع پر نواز شریف نے کہا تھا کہ ماہِ رمضان کے دوران ہر خاندان کو 20 ہزار روپے کا خصوصی الاؤنس بھی دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان کی فوج نے شمالی وزیرستان میں 15 جون کو آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا تھا جس میں فوجی حکام کے دعوے کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں ملکی اور غیر ملکی شدت پسندوں کی تعداد 200 سے زائد ہو چکی ہے اور ان کے اہم مراکز پر بھی حملے کیے جا رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوج کی جانب سے جاری آپریشن ضرب عضب شروع ہوئے دو ہفتے ہونے کو ہیں۔ اس آپریشن سے شمالی وزیرستان کی چھ تحصیلوں سے چار لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں